زمزم کے ساتھ سادہ پانی ملانے سے زمزم کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #312Urdu

Question

میں نے سنا ہے کہ عرب علماء کے نزدیک اگر زمزم کے ساتھ عام پانی ملا دیا جائے تو زمزم کا پانی اپنی ہیئت پر باقی نہیں رہتا، وہ بھی عام پانی ہو جاتا ہے، جب کہ ہمارے علماء اس کو زمزم ہی کہتے ہیں، اب اس کا کیا حکم ہے؟ اگر ملانے سے زمزم ہو جاتا ہے تو عام پانی ملا کر بیچنے کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

زمزم کے ساتھ کچھ تھوڑا بہت سادہ پانی ملانے سے زمزم کی برکت زائل نہیں ہوتی، اب بھی با برکت ہی رہے گا، لیکن ملاوٹ مغلوب ہو اور زمزم غالب ہو کیونکہ فقہاء نے اس معاملہ میں غالب مغلوب کا اعتبار کیا ہے ۔ البتہ ملاوٹ والے پانی کو بتلائے بغیر زمزم کہہ کر فروخت کرنا درست نہیں، اس میں دھوکا دہی ہے جیسے ایک آدمی دودھ میں کچھ تھوڑا سا پانی ملا کر پیے تو اس کو دودھ پینا کہیں گے لیکن دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرنا جائز نہیں، گناہ اور دھوکا دہی ہے کیوں کہ خریدار اصلی بلا ملاوٹ سمجھ کر خرید رہا ہے ۔
حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ متبرک چیز میں ملاوٹ سے برکت زائل نہیں ہوتی ۔ ملاحظہ ہو :

۱ـ عن قيس بن طلق، عن أبيه قال: خرجنا ستة وفدا إلى رسول الله ﷺ فبايعناه وصلينا معه وأخبرناه أن بـأرضنا بيعة لنا واستوهبناه من فضل طهوره فدعا بماء فتوضأ منه وتمضمض وصب لنا في إداوة ثم قال: اذهبوا بهذا الماء فإذا قدمتم بلدكم فاكسروا بيعتكم ثم انضحوا مكانها من هذا الماء واتخذوا مكانها مسجداً، فقلنا يا رسول الله! البلد بعيد والماء ينشف قال: فأمدوه من الماء فإنه لا يزيده إلا طيباً

الخ. (أخرجه ابن حبان في صحيحه: ۳/٤۰۵، رقم: ۱۱۲۳)، قال الشيخ شعيب في تعليقاته على صحيح ابن حبان: إسناده صحيح.

فقہاء کے ہاں ماء مطلق و مقید میں غالب مغلوب کا اعتبار ہے ۔ ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں مذکور ہے:

والغلبة في مخالطة المائع الذي لا وصف له مخالف للماء، وذلك كالماء المستعمل، فإنه طاهر على الصحيح، وماء الورد المنقطع الرائحة يكون بالوزن لعدم التمييز بالوصف لفقده، فإن اختلط رطلان مثلاً من الماء المستعمل، أو ماء الورد المنقطع الرائحة برطل من الماء المطلق لا يجوز به الوضوء لغلبة المقيد، وبعكسه، وهو لو كان الأكثر المطلق جاز به الوضوء، وإن استويا لم يذكر حكمه في ظاهر الرواية، وقالوا: حكمه حكم المغلوب احتياطاً لما طال الفصل. (إمداد الفتاح، ص ٤۱، ط: بيروت).

اسی طرح اگر عورت نے اپنے دودھ کے ساتھ پانی ملا کر بچے کو پلا دیا تو حرمتِ رضاعت کے ثبوت میں غالب کا اعتبار ہوگا ۔ ملاحظہ ہو :
وإذا اختلط اللبن بالماء واللبن هو الغالب تعلق به التحريم وإن غلب الماء لم يتعلق به التحريم. (مختصر القدوري، ص ۲۲۲، ط: سعيد، وبدائع الصنائع: ٤/۱۰، سعيد، وفتح القدير: ۳/٤۵۱، دار الفكر).

مفتی شبیر صاحب قاسمی نے بھی اسی کے موافق لکھا ہے ۔ ملاحظہ ہو :
بہت سے حجاجِ کرام گھر واپس آنے کے بعد عزیزوں اور دوستوں اور خاندان کے لوگوں کو آبِ زمزم بطور تبرک پیش کرتے ہیں، اور آبِ زمزم میں پانی ملاتے ہیں، ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر آبِ زمزم میں پانی غالب ہو جائے تو وہ آبِ زمزم ہی نہ رہے گا اور اس کو آبِ زمزم کہہ کر پلانا درست نہ ہوگا، بلکہ ایک جھوٹی بات ہو گی ۔ ہاں البتہ اگر آبِ زمزم غالب ہوگا تو اس کو آبِ زمزم کہا جا سکتا ہے جیسا کہ دودھ میں اگر پانی ملا دیا جائے اور اگر پانی غالب ہوگا تو وہ شرعاً دودھ کے دائرہ سے خارج ہو جاتا ہے، حتی کہ اگر دودھ پیتے بچے کو کسی عورت کے دودھ میں دودھ سے زیادہ پانی ملا کر پلایا جائے گا تو اس سے شرعی طور پر رضاعت کا حکم ثابت نہ ہوگا، اس لیے کہ بچہ نے ایسی صورت میں پانی پیا ہے عورت کا دودھ نہیں پیا، اسی طرح آبِ زمزم میں پانی غالب ہوگا تو آبِ زمزم نہ ہوگا بلکہ دوسرا پانی ہو جائے گا ۔ (انوارِ مناسک، ص ٤۰۰، مکتبہ صوت القرآن، دیوبند) ۔
بیع میں دھوکا دہی ممنوع ہے، حدیث شریف میں ہے:
من غشنا فليس منا. (رواه الترمذي: ۱/۲٤۵).

ایک حدیث میں ہے نبی ﷺ نے پانی ملا ہوا دودھ نوش فرمایا ۔
عن الزهري سمع أنس بن مالك يقول: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وأناْ ابن عشر سنين ومات وأناْ ابن عشرين سنة فكن أمهاتي يحثثني على خدمته فدخل علينا النبي صلى الله عليه وسلم دارنا فحلبنا له من شاة لنا داجن فشيب له من ماء بئر في الدار

الخ. (متفق عليه)
اِس حدیث کے تحت حافظ ابن عبد البر رحمه الله فرماتے ہیں:
وفيه إجازة خلط اللبن بالماء لما أراد شربه ولم يرد البيع لأن قوله قد شيب بماء أي قد خلط ومعنى الشوب الخلط وجمعه أشواب وإنما قلنا إذا لم يرد به البيع لأن خلط الماء باللبن غش وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من غشنا فليس منا، وقد بلغني أن عمر بن الخطاب أهراق لبنا قد شيب بماء على مريد بيعه والغش فيه. (التمهيد: ٦/۱۵٤، ط: مؤسسة القرطبة).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.