سوتیلے ماموں سے نکاح کرنے کا حکم:
Question
ایک لڑکی کی والدہ کا انتقال ہو گیا، اس کے والد نے بڑی عمر میں ایک نوجوان عورت سے شادی کی، اس کا ایک بھائی ہے، کیا اس لڑکی کا نکاح اپنی سوتیلی والدہ کے بھائی یعنی سوتیلے ماموں سے جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ سوتیلی والدہ کا بھائی اس لڑکی کا حقیقی ماموں نہیں ہے اس وجہ سے نکاح جائز اور درست ہے ۔ بظاہر عدمِ جوازِ نکاح کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔
قال الله تعالى: ﴿وأحل لكم ما وراء ذلكم﴾ [النساء: ۲٤].
ملاحظہ ہو فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: ایک شخص کی دو زوجہ ہیں اور زوجہ اول سے تین لڑکیاں ہیں، اور زوجہ ثانی لا ولد ہے اب زوجہ ثانی کے ایک حقیقی بھائی سے زوجہ اول کی کسی لڑکی کا نکاح درست ہے یا نہیں؟
الجواب: زوجہ ثانیہ کے بھائی کا نکاح زوجہ اولی کی کسی دختر سے درست ہے، اس میں کوئی وجہ حرمت نکاح کی نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۷/۱۹٦، مکمل و مدلل، ط: دار الاشاعت) ۔
کفایت المفتی میں مذکور ہے: پہلی بیوی کے بطن سے جو لڑکی ہو اس کا نکاح دوسری بیوی کے بھائی سے کرنا جائز ہے:
قال الله تعالى: ﴿وأحل لكم ما وراء ذلكم﴾ أي ما عدا من ذكرن من المحارم هن لكم حلال. تفسير ابن كثير: ۲/۲۵۸.
(کفایت المفتی: ٦/۵٤۱، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3596
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3596