ہوائی جہاز کے سفر میں میاں بیوی کا مختلف سیٹ پر بیٹھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #343Urdu

Question

ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ سفر کرتی ہے لیکن ہوائی جہاز میں دونوں کی سیٹیں الگ الگ ہیں، اور یہ ہوتا رہتا ہے، تو کیا ایسی حالت میں سفر جائز ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اس طرح سفر جائز ہے اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ بلا محرم سفر کیا ہے، کیوں کہ زمانہ نبوی میں صحابیات اور ازواجِ مطہرات کی سواری کبھی الگ ہوتی تھی ۔ ہاں ٹکٹ لیتے وقت ان کو بتا دیا جائے تو ساتھ میں کر دیں گے، یا اجنبی سے درخواست کر دے وہ شوہر کی جگہ بیٹھ جائے اور شوہر اس اجنبی کی جگہ بیوی ساتھ بیٹھ جائے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو عورت پر دہ کے ساتھ بیٹھے اور بے تکلفی کی بات چیت نہ کرے ۔
مسلم شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها، كان رسول الله ﷺ إذا خرج أقرع بين نسائه فطارت القرعة على عائشة رضي الله عنها وحفصة رضي الله عنه فخرجتا معه جميعاً وكان رسول الله ﷺ إذا كان بالليل سار مع عائشة رضي الله تعالى عنها يتحدث معها فقالت حفصة رضي الله عنه لعائشة رضي الله عنه: ألا تركبين الليلة بعيري وأركب بعيرك فتنظرين وأنظر قالت: بلي فركبت عائشة رضي الله عنه على بعير حفصة رضي الله عنه وركبت حفصة رضي الله عنه على بعير عائشة رضي الله عنه فجاء رسول الله ﷺ إلى جمل عائشة وعليه حفصة فسلم ثم سار معها حتى نزلوا فافتقدته عائشة

الخ. (رواه مسلم، رقم: ۲٤٤۵).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.