طلاق دینے کا شرعی اختیار مرد کو استعمال کرنے کی حدود:

6 min readFatwa Vol 9 #348Urdu

Question

ایک آدمی ازدواجی زندگی سے تنگ آ چکا ہے، جاننا چاہتا ہے کہ کس مرحلہ میں پہنچ کر طلاق کا اختیار استعمال کرنا چاہیے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شریعتِ مطہرہ میں رشتہ نکاح اور ازدواجی زندگی کا بندھن وقتی نہیں ہے بلکہ موت حیات کا بندھن ہے، مرتے دم تک رشتہ کو نبھانا اور باقی رکھنا مطلوب ہے کیوں کہ یہ رشتہ چین، سکون اور عفت و پاکدامنی کی زندگی گزارنے کا ایک مستحکم وسیلہ اور ذریعہ ہے، نیز ناخوشگواریوں اور میاں بیوی کی نا اتفاقیوں کا ابتدائی حل طلاق نہیں ہے بلکہ اصلاحِ حال کا آخری مرحلہ طلاق ہے ۔
چنانچہ خاندان کے بڑے حضرات جو عقل دانش رکھتے ہوں ان کو حکم بنا کر اصلاح کی کوشش کی جائے اور مختلف تدابیر استعمال کی جائے تاہم اگر کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہو اور عدمِ موافقت کے ساتھ دونوں کا ساتھ رہنا ایک مصیبت اور عذاب بن جائے تو آخری تدبیر طلاق کا اختیار استعمال کر کے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ آلوسی بغدادی رحمه الله فرماتے ہیں:

أن الأصل في الطلاق هو الحظر لما فيه من قطع النكاح الذي تعلقت به المصالح الدينية والدنيوية والإباحة للحاجة إلى الخلاص. (روح المعاني: ۲/۱۳٦، القاهرة).
وفي تفسير آيات الأحكام: إن مرتبة الطلاق بعيدة عن مرتبة النكاح، إذ أن النكاح تترتب عليه منافع كثيرة، ويثمر ثمرات طيبة، فأما الطلاق فإنه يحل العقدة، ويفصم العروة، ويبطل ما بين الزوجين وأقاربهما من روابط وصلات، ولهذا قال بعض الفقهاء: إن الآية ترشد إلى أن الأصل في الطلاق الحظر، وإنه لا يباح إلا إذا فسدت الزوجية، ولم تفلح وسائل الإصلاح بين الزوجين. (تفسير آيات الأحكام للشيخ محمد علي، ص ۳، ط: المكتبة العصرية).
قال في البحر الرائق: وأما سببه فالحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى وشرعه رحمة منه سبحانه، وأما صفته فهو أبغض المباحات إلى الله تعالى، وفي المعراج: إيقاع الطلاق مباح وإن كان مبغضاً في الأصل عند عامة العلماء. (البحر الرائق: ۳/۲۳٦، كوئته). (وكذا في إحياء علوم الدين: ۲/۳۳٦).

معارف القرآن میں مذکور ہے:
اسلامی تعلیمات کا اصل رخ یہ ہے کہ نکاح کا معاملہ اور معاہدہ عمر بھر کے لیے ہو، اس کے توڑنے اور ختم کرنے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے، کیوں کہ اس معاملہ کے انقطاع کا اثر صرف فریقین پر نہیں پڑتا، نسل و اولاد کی تباہی و بربادی اور بعض اوقات خاندانوں اور قبیلوں میں فساد تک کی نوبت پہونچتی ہے، اور پورا معاشرہ بری طرح اس سے متاثر ہوتا ہے، اسی لئے جو اسباب اور وجوہ اِس معاملہ کے توڑنے کا سبب بن سکتے ہیں قرآن و سنت کی تعلیمات نے ان تمام اسباب کو راہ سے ہٹانے کا پورا انتظام کیا ہے، زوجین کے ہر معاملے اور ہر حال کے لیے جو ہدایتیں قرآن و سنت میں مذکور ہیں ان سب کا حاصل یہی ہے کہ یہ رشتہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا چلا جائے، ٹوٹنے نہ پائے، نا موافقت کی صورت میں اول افہام تفہیم کی پھر زجر و تنبیہ کی ہدایتیں دی گئیں، اور اگر بات بڑھ جائے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو خاندان ہی کے چند افراد کو حکم اور ثالث بنا کر معاملہ طے کرنے کی تعلیم دی
لیکن بعض اوقات ایسی صورتیں بھی پیش آتی ہیں کہ اصلاحِ حال کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں، اور تعلق نکاح کے مطلوبہ ثمرات حاصل ہونے کے بجائے طرفین کا آپس میں مل کر رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے، ایسی حالت میں اس ازدواجی تعلق کا ختم کر دینا ہی طرفین کے لیے راحت اور سلامتی کی راہ ہو جاتی ہے،
اس لیے شریعتِ اسلام نے بعض دوسرے مذاہب کی طرح یہ بھی نہیں کیا کہ رشتہ ازدواج ہر حال میں ناقابل فسخ ہی رہے، بلکہ طلاق اور فسخ نکاح کا قانون بنایا، طلاق کا اختیار تو صرف مرد کو دیا، جس میں عادۃً فکر و تدبر اور تحمل کا مادہ عورت سے زائد ہوتا ہے، عورت کے ہاتھ میں یہ اختیار نہیں دیا، تاکہ وقتی تاثرات سے مغلوب ہو جانا جو عورت میں بہ نسبت مرد کے زیادہ ہے وہ طلاق کا سبب نہ بن جائے ۔
لیکن عورت کو بھی بالکل اس حق سے محروم نہ رکھا کہ وہ شوہر کے ظلم و ستم سہنے ہی پر مجبور ہو جائے، اس کو یہ حق دیا کہ حاکمِ شرعی کی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کر کے اور شکایات کا ثبوت دے کر نکاح فسخ کرا سکے یا طلاق حاصل کر سکے، پھر مرد کو طلاق کا آزادانہ اختیار تو دے دیا مگر اول تو یہ کہہ دیا کہ اس اختیار کا استعمال کرنا اللہ کے نزدیک بہت مبغوض و مکروہ ہے، صرف مجبوری کی حالت میں اجازت ہے، حدیث میں ارشادِ نبوی ہے:

عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أبغض الحلال إلى الله الطلاق. (رواه أبو داود، وابن ماجه، وصححه الحاكم، ورجح أبو حاتم إرساله).
یعنی حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض اور مکروہ اللہ کے نزدیک طلاق ہے ۔ دوسری پابندی یہ لگائی کہ حالتِ غیظ و غضب میں یا کسی وقتی اور ہنگامی ناگواری میں اس اختیار کو استعمال نہ کریں ۔ (معارف القرآن، جلدِ اول، ص ۵۵٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (قاموس الفقہ: ٤/۳۳٦، و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/٤۳۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.