اگلی طلاق بھول کر دو طلاقیں دینے پر تین طلاق کا حکم:
Question
اگر کسی مسلمان کو سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے کوئی چیز یاد نہیں رہتی، جب وضو کرتا ہے تو سر کا مسح وغیرہ بھی بھول جاتا ہے دوبارہ کرنا پڑتا ہے، نیز گھر پر نماز پڑھے تو رکعات کی تعداد بھی بھول جاتا ہے، کچھ یاد نہیں رہتا، ایسے شخص نے زمانہ ماضی میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی، اور بھول گیا تھا، ابھی اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں، اگلی بالکل یاد نہیں تھی، وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ اسے پہلی طلاق یاد نہیں تھی، آپ مجھے بتائیے کہ اب اس کا نکاح ختم ہو چکا یعنی تین ہو گئیں یا رجوع کا حق باقی ہے؟ بینوا بالدلیل ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ شخص مذکور کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں؛ اب شرعی حلالہ کے بغیر نکاح کرنا درست نہیں ہے، اور اگلی طلاق بھولنا کوئی شرعی عذر نہیں ہے جب اس کو یقینی طور پر یاد ہے کہ پہلے ایک دے چکا تھا تو اب وہ بھی شمار ہو گی، اور دو نئی کے ساتھ مل کر تین مغلظہ ہو چکی ۔ ملاحظہ ہو فتح القدیر میں مذکور ہے:
قال في فتح القدير: ولزم طلاق الناسي، وتقدم في كتاب الطلاق فيه زيادة أحكام فارجع إليه. (فتح القدير: ٦/۹۸، دار الفكر).
وقال في بدائع الصنائع: وكذا صحة الزوج ليس بشرط وكذا إسلامه فيقع طلاق المريض والكافر لأن المرض والكفر لا ينافيان أهلية الطلاق. (بدائع الصنائع: ۳/۱۰۰، سعيد).
وقال في الموسوعة الفقهية: الحنفية أوقعوا طلاق الناسي والخاطئ والذاهل وكذلك يمينه. (الموسوعة: ۳۵/۲۸٦، والنتف في الفتاوى، ص ۳٤۸، ط: بيروت).
وفي الأشباه والنظائر: والناسي والعامد في اليمين سواء، وكذا في الطلاق لو قال: زوجتي طالق ناسياً أن له زوجة. (الأشباه والنظائر: ۱/۳۰۲، دار الكتب العلمية بيروت).
وفي الأحوال الشخصية: وقد قال علماء الحنفية: إن طلاق الغافل والساهي يقع إذا استوفي كل واحد من هؤلاء الشروط الثلاثة التي قدمنا بيانها، بأن يكون زوجاً بالغاً عاقلاً، لأن السفه والهزل والخطأ والغفلة لا تنقض الأهلية. (الأحوال الشخصية للشيخ محمد محي الدين عبد الحميد، ص ۲٦٤، ط المكتبة العلمية بيروت).
خلاصہ یہ ہے کہ تین طلاقیں واقع ہو چکیں اب شرعی حلالہ کے بغیر دونوں کا آپس میں نکاح جائز نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3618
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3618