کلیرنگ ایجنٹ (clearing agent) کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #381Urdu

Question

کیا کلیرنگ ایجنٹ کا کام کرنا جائز ہے اور اس پر ملنے والی رقم کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ کلیرنگ ایجنٹ کا مطلب یہ ہے ملک میں درآمدات کی کاغذاتی کاروائی وغیرہ کرنا، نیز اگر یہ ایجنٹ بندر گاہ کے منتظمین کو کم رقم ادا کرتا ہے اور وہ امپورٹر و ایکسپورٹر سے زیادہ وصول کرتا ہے مثلاً: ۱۰۰۰، محکمہ کو دیے اور ۱۵۰۰ وصول کیے تو یہ اضافی رقم اپنے لیے رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر اس محکمہ اور ادارہ نے کلیرنگ ایجنٹ کی تنخواہ مقرر کی ہے اور اس ادارہ و کمپنی کی جانب سے امپورٹر و ایکسپورٹر کی فیس بھی مقرر ہے تو پھر ایجنٹ زیادہ وصول نہیں کر سکتا، ہاں اگر محکمہ کی طرف سے کہا گیا ہو کہ ایک متعین رقم مثلاً: ۱۰۰۰ رینڈ ہمیں دو اور امپورٹر سے تم زیادہ وصول کر سکتے ہو تو اضافی رقم اپنے لیے رکھنے کی اجازت ہو گی ۔ ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں لکھتے ہیں:

ومقصوده آخر الحديث "ومن استأجر أجيراً فليعلمه أجره" وهذا دليل جواز الإجارة استئجار الحر للعمل ووجوب إعلام الأجر وأنه لا يجب تسليم الأجر بنفس العقد، لأنه أمر بالإعلام ولو كان التسليم يجب بنفس العقد لكان الأولي أن يقول فليؤته أجره وفي قوله ﷺ: "أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه" دليل على ذلك أيضاً فإنه أمر بالمسارعة إلى أداء الأجرة وجعل أول أوقات المسارعة ما بعد الفراغ من العمل قبل جفوف العرق فدل أن أول وقت الوجوب هذا. (المبسوط: ۱۵/۷٦، دار الفكر).
فتاوى الشامي
میں منقول ہے:
مطلب في أجرة الدلال: تتمة: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار، يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم، وفي الحاوي: سئل محمد بن مسلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجوا أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجاً ينسج له ثياباً في كل سنة. (فتاوى الشامي: ٦/٦۳، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.