(Extended Warranty) اضافہ شدہ ضمانت کا حکم:
Question
آج کل بازار میں ایسا معاملہ ہوتا ہے کہ مثلاً کوئی چیز خریدی تو ایک سال تک مفت میں ٹھیک کرنے کی شرط ہوتی ہے، پھر کمپنی یا دکاندار یہ کہتا ہے کہ اگر تم نے مزید اتنی رقم دی تو اس کی گارنٹی دو سال کر دی جائے گی، تو کیا ایسا معاملہ درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ معاملہ صحیح اور درست ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مشتری مزید رقم ادا کرتا ہے اور بائع اس کے عوض مبیع ٹھیک کرنے کی گارٹنی دیتا ہے تو یہ عقدِ اجارہ کا معاملہ ہے کہ بائع رقم کے عوض خراب ہونے پر ٹھیک کرنے کے عمل کی ذمہ داری لیتا ہے ۔ ملاحظہ ہو مفتی تقی صاحب لکھتے ہیں:
هناك التزام آخر رائج في السوق اليوم باسم "الضمان الممدد "وهو أن يمدد البائع مدة تصليح الجهاز من قبله فوق المدة المشروطة في العقد لقاء عوض ما لي زائد، فمثلاً: لو كانت المدة المشروطة في العقد لتصليح الجهاز من قبل البائع سنة، فإن البائع يقول: ادفع لي كذا، فأمدد المدة إلى سنة أخرى، فهذا ليس مما نحن فيه الآن من مسألة البيع بالشرط، وإنما هو عقد مستقل من عقود الصيانة. وموضعه الإجارة. (فقه البيوع: ۱/۵۰۱).
فقہاء نے لکھا ہے کہ عمل کی ذمہ داری اٹھانے پر بھی اجرت واجب ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله لأن المستحق عمل في ذمته ويمكن إيفاء بنفسه أو بالاستعانة بغيره بمنزلة إيفاء الدين. (الهداية: ۳/۲۹۷).
وفي رد المحتار: لأن المعقود عليه في حقه هو العمل أو أثره. (رد المحتار: ٦/٦۴، سعيد).
وفي تقريرات الرافعي: قوله أو أثره أي وأثره إذا لم يشترط أن يعمل بنفسه. (تقريرات الرافعي: ٦/۲٦۸، سعيد).
وفي فتاوى الشامي: قوله وإن لم يعمل أي إذا تمكن من العمل. (فتاوى الشامي: ٦/٦۹، سعيد).
وفي الهندية: وأما شرائط الصحة
ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوماً علماً يمنع المنازعة فإن كان مجهولاً جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا، فلا
ومنها بيان المدة. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۱).
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بیع بالشرط کے تحت داخل نہیں ہے بلکہ یہ ایک مستقل عقدِ اجارہ کا معاملہ ہے جو جائز ہے ہاں پہلی مرتبہ کی مفت سروس کی گارنٹی بیع بالشرط میں داخل ہے، لیکن متعارف ہونے کی وجہ سے وہ بھی جائز ہے، اس کی تفصیل فتاوی دار العلوم زکریا (۵/۵۵) میں ملاحظہ کیجیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3658
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3658