روڈ فنڈ کی رقم زیادتی کے ساتھ حاصل کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 9 #406Urdu

Question

سڑک پر ایکسیڈنٹ ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے روڈ فنڈ ملتا ہے، اور یہ ہائی کورٹ کی جانب سے رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر وقت پر ادا نہ کیا گیا تو رقم پر مزید ڈھائی فیصد سود لگا کر ادا کیا جائے گا، اب سوال یہ ہے کہ کورٹ کے حکم کے بعد روڈ ایکسیڈنٹ فنڈ والے چھ ماہ کے بعد رقم ادا کرتے ہیں اس لیے اس پر سود بھی ادا کرتے ہیں تو کیا مزید رقم کا لینا جائز ہو گا یا نہیں؟
۲۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب اس رقم پر زکوٰۃ ادا کریں گے تو کون سی تاریخ کا اعتبار ہو گا جس تاریخ کو کورٹ نے فیصلہ کیا، یا جس دن پیسے ملیں گے؟ بینوا توجروا۔

Answer

روڈ ایکسیڈنٹ فنڈ کی جانب سے جو رقم ملتی ہے، کورٹ کے فیصلہ کے بعد وہ استحقاق کے زمرے میں آتی ہے اس پر ملکیت نہیں آتی، لہٰذا جو اضافی رقم سود کے نام سے دی جائے وہ ابتدائی تبرع ہے، سود نہیں، اگر چہ حکومت اس کو سود سے موسوم کرے، اس کا لینا جائز اور درست ہے۔
۲۔ رقم موصول ہونے کے بعد سال کی گنتی شروع ہو گی، روڈ ایکسیڈنٹ فنڈ کی مثال پراویڈنٹ فنڈ ہے کہ علماء نے اس کو دین ضعیف میں شمار کیا ہے یعنی اس پر قبضہ کرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کی جائے اس سے پہلے نہیں۔
سود اس کو کہتے ہیں کہ مالی معاوضہ میں بلا عوض زیادتی مشروط ہو۔ ملاحظہ ہو فقہاء سود کی تعریف یوں لکھتے ہیں:

قال في الهداية: الربا هو الفضل المستحق لاحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه. (الهداية: ۳/۷۸).

العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

الربا في اللغة هو الزيادة

وفي الاصطلاح هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع. (العناية: ۳/۷). (وكذا في الدر المختار: ۵/۱٦۸، سعيد).
معجم لغة الفقهاء
میں مذکور ہے:

الربا كل زيادة مشروطة في العقد خالية عن عوض مشروع. (معجم لغة الفقهاء، ص ۲۱۸). (وكذا في التعريفات الفقهية، ص ۱۰۲).

منتخباتِ نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
شرعاً ربا کے معنی میں جتنی عبارتیں فقہاء نے نقل فرمائی ہے ان سب حاصل یہ ہے کہ اموالِ ربویہ میں عقدِ معاوضہ کا معاملہ ہو اور اسی عقد میں کسی جانب کو زیادتی بلا عوض ہو (یعنی) جس میں نفع عقدِ معاملہ میں مشروط ہو۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱/۱۹۵) ۔
خلاصہ یہ ہے سود اس کو کہتے ہیں کہ عقدِ معاوضہ میں زیادتی بلا عوض مشروط ہو جب کہ ہمارے مسئلہ میں ایسا نہیں، یہ ابتدائی تبرع ہے، اس کا لینا جائز اور درست ہے۔ اور یہ پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہے جب وصول ہو جائے اس کے بعد زکوٰۃ ادا کی جائے گی اس سے پہلے نہیں، علماء نے اس کو دین ضعیف میں شمار کیا ہے۔
دین ضعیف کا حکم ملاحظہ ہو:

قال في فتح القدير: فنقول: قسم أبو حنيفة رحمه الله الدين إلى ثلاثة أقسام: قوي وهو بدل القرض ومال التجارة، ومتوسط: وهو بدل ما ليس للتجارة كثمن ثياب البذلة وعبد الخدمة ودار السكني، وضعيف: وهو بدل ما ليس بمال كالمهر والوصية وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة والسعاية

وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصاباً ويحول الحول بعد القبض عليه. (فتح القدير: ۲/۱٦۷، ط: دار الفكر).

کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
پراویڈنٹ فنڈ پر جو رقم محکمہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور اسی طرح دونوں رقموں کے مجموعے پر جو رقم سود کے نام سے بڑھائی جاتی ہے یہ سب رقم جائز ہے، یہ شرعاً سود نہیں ہے اگر چہ محکمہ اس کو سود کے نام سے موسوم کرتا ہے اور ان تمام رقوم کی زکوٰۃ ادا کرنے کا یہ حکم ہے کہ وصولی رقم کے ان کی زکوٰۃ ادا کی جائے وصول ہونے سے پہلے ادائیگی لازم نہیں۔ (کفایت المفتی: ۸/۹۷، دار الاشاعت) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں مذکور ہے:
ملازمان کی تنخواہ میں سے کچھ روپیہ وضع ہوتا ہے اور پھر اس میں کچھ رقم ملا کر بوقتِ ختمِ ملازمت ملازموں کو ملتا ہے وہ ایک انعام سرکاری سمجھا جاتا ہے اس پر زکوٰۃ گزشتہ برسوں کی واجب نہیں ہوتی، آئندہ کو بعد میں وصول کے جب سال بھر نصاب پر گزر جاوے گا اس وقت دینا لازم ہو گا۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۳۳۱، ط: مدلل و مکمل)،
مزید تفصیل کے لیے فتاوی دار العلوم زکریا کی تیسری جلد ص ۱۵۱، پراویڈنٹ کے تحت ملاحظہ فرما لیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.