میدان میں کھیلنے کے لیے فیس ادا کرنے اور اس پر انعام حاصل کرنے کا حکم:
Question
ایک علاقہ میں ۳۲ جماعتیں کھیلنے والی ہیں، اس کھیل کی ایک انتظامی کمیٹی ہے، کھیل کا طریقہ کار یہ ہو گا کہ ہر جماعت ۵۰۰ رینڈ بطورِ فیس ادا کرے گی اس کے بدلہ میدان میں کھیلنے کا حق حاصل ہو گا، تو کل ۱٦۰۰۰ ہزار رینڈ جمع ہوں گے، پھر جو جماعت کامیاب ہو گی اسے ۲۵۰۰ ہزار بطورِ انعام دئیے جائیں گے اور نمبر ۲ پر آنے والی جماعت کو ۱۵۰۰ بطورِ انعام حاصل ہوں گے، باقی ۱۲۰۰۰ میدان کی فیس اور دیگر اخراجات میں استعمال کیے جائیں گے اور کچھ حصہ انتظامی کمیٹی کو ملے گا ۔ کیا شرعاً یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ معاملہ جائز اور درست ہے کیوں کہ جو پیسے بطورِ فیس ادا کیے اس کے عوض میدان میں کھیلنے کا حق مل گیا اور دوسری سہولیات مل گئیں، پھر کامیاب ہونے والی جماعت کو کمیٹی اپنی طرف سے انعام دے تو یہ درست ہے کیوں کہ پیسوں میں کسی کا حق نہیں لہٰذا یہ ابتدائی تبرع ہے ۔
نیز اس کی مثال وہ صورت بھی ہے کہ سب لوگ تبرعاً کھانا لا کر جمع کر کے ساتھ کھا لیں جس میں کوئی زیادہ کھاتا ہے کوئی کم کھاتا ہے جب کہ کسی کو کھانے کی رغبت ہی نہیں ہوتی تو درست ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أبي موسي قال: قال النبي ﷺ: إن الأشعريين إذا أرملوا في الغزو أو قل طعام عيالهم بالمدينة جمعوا ما كان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموه بينهم في إناء واحد بالسوية فهم مني وأنا منهم. (صحيح البخاري رقم: ۲٤۸٦).
قال الشيخ ابن بطال البكري: وإنما يأكل كل واحد على قدر نهمته، وقد يأكل الرجل أكثر من غيره، وهذه القسمة موضوعة بالمعروف، وعلى طريقة بين الآكلين. (شرح صحيح البخاري: ۷/۷).
قال في الهندية: المسافرون إذا خلطوا أزوادهم أو أخرج كل واحد منهم درهماً على عدد الرفقة واشتروا به طعاماً وأكلوا فإنه يجوز وإن تفاوتوا في الأكل كذا في الوجيز للكردري، والله أعلم. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3699
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3699