میڈیکل ایڈ کے پریمیم پر زائد ادا کر کے فوائد حاصل کرنے کا حکم:
Question
دسکوری میڈیکل ایڈ (Discovery Medical Aid) کے ساتھ جو حضرات منسلک ہیں ان کو ویٹی لیٹی پروگرام (Programme Vitality) کا اختیار دیا جاتا ہے، ان حضرات کو میڈیکل ایڈ کے پریمیم (premium) سے کچھ زائد پیسے ادا کرنے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو مختلف فوائد حاصل ہوتے ہیں: مثلا: ہوائی جہاز کا ٹکٹ، جیم کی ممبر شپ، مخصوص سبزیاں، مخصوص کپڑے، مخصوص گھڑیاں وغیرہ پر رعایت ملتی ہے ۔
۲ ۔ کیا بینک کو سالانہ فیس ادا کر کے لویلٹی فوائد (loyalty benefits) حاصل کرنا جائز ہے؟ مثلاً: اِ ی باکس (ebucks)، اس میں وہ حضرات جن کے پاس ایف، این، بی (FNB) اکاؤنٹ ہو وہ اپنا کریڈٹ کارڈ بینک کے ساتھ رجسٹر کر کے، سالانہ دوسو رینڈ ادا کر کے مختلف فوائد حاصل کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ دونوں معاملوں کا تعلق تبرعِ مشروط کے ساتھ ہے کہ پہلے میں مختلف فوائد کو پر یمیم پر کچھ زیادہ ادا کرنے کے ساتھ مشروط کیا ہے، اور دوسرے میں حصولِ فوائد کو بینک کے ساتھ رجسٹر کر کے سالانہ دوسو رینڈ ادا کرنے کے ساتھ مشروط کیا ہے ۔ اور چونکہ اس میں پیسہ کا مقابلہ پیسہ سے نہیں اور نہ ہم جنس سے ہے، نیز جہالت مفضی الی النزاع بھی نہیں ہے، اس وجہ سے جس کا غیر سودی اکاؤنٹ ہو تو اس کے لیے گنجائش ہے ۔ ہاں اگر بینک کی آمدنی زیادہ تر حرام اور سودی کاروبار سے ہو تو ایسے فوائد حاصل کرنے سے بچنا چاہیے ۔ فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
فإن كان مجهولاً جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۱).
فتاوی دار العلوم زکریا میں مذکور ہے:
علاج و معالجہ کی مد میں کمپنی سے خود رقم وصول نہ کریں بلکہ کمپنی خود اس رقم کے عوض علاج و معالجہ کی ذمہ داری اُٹھا لے اور علاج کرا دے تو اس صورت میں جو رقم آپ نے جمع کرائی تھی اس کے عوض میں کمپنی نے آپ کو علاج کی سہولت فراہم کر دی، اگر چہ اس صورت میں ثمن کا عوض مجہول ہے مگر چونکہ یہ جہالت مفضی الی النزاع نہیں ہے اور لوگ ایسی جہالت سے معاملے کرتے ہیں اس لیے اس کی گنجائش ہو گی ۔ (۵/٤۳۵) ۔
تبرعِ مشروط کے دلائل ما قبل میں کئی مرتبہ گزر چکے ہیں، وہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3708
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3708