اذان یا اقامت میں اگر کوئی کلمہ بھول جائے تو بعد میں یا د آنے پر اعادہ کا حکم:
Question
اذان یا اقامت میں کوئی کلمہ بھول جائے اور بعد میں یا د آئے تو اعادہ ضروری ہے یا نہیں؟
Answer
اگر فوراً یا د آگیا تو جو کلمہ چھوٹ گیا تھا وہیں سے اعادہ کر لے، البتہ استیناف افضل ہے ۔ اور اگر کچھ دیر بعد یا د آیا تو شروع سے لوٹائے ۔
در مختار میں ہے:
ولو قدم فيهما مؤخراً أعاد ما قدم فقط. وفي الشامية: (قوله أعاد ما قدم فقط) كما لو قدم الفلاح على الصلاة يعيده فقط أي ولا يستأنف الأذان من أوله. (الدر المختار مع الشامي: ۱/۳۸۹، سعيد)
وفي تقريرات الرافعي:
(قول الشارح أعاد ما قدم فقط) أي أجزأه ذلك لكن الاستئناف أفضل، حموي.
(تقريرات الرافعي على هامش الشامي: ۱/٤٦، سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ويرتب بين كلمات الأذان الإقامة كما شرع، وإذا قدم في أذانه وإقامته بعض الكلمات على بعض نحو أن يقول: "أشهد أن محمدا رسول الله" قبل قوله: "أشهد أن لا إله إلا الله" فالأفضل في هنا أن ما سبق على أوانه لا يعتد به حتى يعيده في أوانه وموضعه. (الفتاوى الهندية: ۱/٥٦، الفصل الثاني في كلمات الأذان والإقامة. وكذا في بدائع الصنائع: ۱/۱٤۹، سعيد)
فتاوی حقانیہ میں ہے:
اگر کوئی کلمہ بھول جائے یا تقدیم و تاخیر کرے تو اختتام سے قبل اس کا ازالہ کر کے آگے ترتیب سے اذان کہنا شروع کرے، البتہ اگر غلطی کا احساس اذان کے بعد ہوا اور باتوں کی وجہ سے تدارک ممکن نہ ہو تو اعادہ کیا جائے ۔ (فتاوی حقانیہ: ۳/٤۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/379
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-379