ولید بن عقبہ رضي الله عنه پر فسق کے الزام کا حکم:

20 min readFatwa Vol 1 #41Urdu

Question

آیت کریمہ:
﴿

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ﴾
کے شان نزول میں اکثر مفسرین حضرات نے فرمایا ہے کہ فاسق کا مصداق حضرت ولید بن عقبہ رضي اللہ عنہ ہیں جبکہ ولید بن عقبہ
رضي الله عنه
صحابی ہیں، کیا ان کو قرآن کریم کی آیتِ کریمہ میں فاسق کا مصداق قرار دینا صحیح ہے؟ اور جو روایت ہے اس کی کیا حیثیت ہے؟

Answer

وہ روایت ملاحظہ ہو جس میں ولید بن عقبہ کو فاسق قرار دیا گیا:
مجمع الزوائد میں ہے:

وعن علقمة بن ناجية قال: بعث إلينا رسول الله ﷺ الوليد بن عقبة بن أبي معيط يصدق أموالنا فسار حتى إذا كان قريباً منا وذلك بعد وقعة المريسيع فرجع حتى نزلت الآية: ﴿يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبأ﴾ (مجمع الزوائد: ۷/۱۰۹، دار الفكر).

ولید بن عقبہ رضي اللہ عنہ کے بارے میں جو روایات مفسرین نے نقل کی ہیں وہ ضعیف ہیں ان کا اعتبار نہیں ۔ ان میں سے اکثر مجاہد قتادہ اور ابن ابی لیلیٰ پر موقوف ہیں اور جو روایات مرفوع ہیں ان کی اسناد میں ضعیف روات ہیں، مثلاً طبرانی کی ایک سند میں یعقوب بن حمید ہے ۔

قال الهيثمي في "المجمع" (۷/۱۱۰، دار الفكر): ضعفه الجمهور.

دوسری سند میں عبد اللہ بن عبد القدوس التمیمی ہے ۔

قال الهيثمي في "المجمع" (۷/۱۱۰، دار الفكر): وقد ضعفه الجمهور.

تیسری سند میں مو سی بن عبیدہ ہے ۔
قال الهيثمي في "المجمع" (۷/۱۱۱، دار الفكر): وهو ضعيف.
وضعفه النسائي وابن المديني وابن عدي.
وفيه ثابت مولى أم سلمة مجهول لم يذكر في كتب الرجال.

اور جو روایت مجاہد پر موقوف ہے اس میں عبد اللہ بن سعید بن ابی مریم ہے ۔

وهو ضعيف قاله الهيثمي. (مجمع الزوائد ۷/۱۱۱).
قيل إسناد مسند أحمد صحيح: حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا محمد بن سابق ثنا عيسى بن دينار ثنا أبي أنه سمع الحرث بن ضرار الخزاعي رضي الله عنه قال: قدمت على رسول الله ﷺ. الخ. (مسند أحمد: ٤/۲۷۹).
لكن دينار والد عيسى مجهول، فكيف يكون صحيحاً؟
قال في تحرير التقريب:
بل مجهول، تفرد بالرواية عنه ابنه عيسى بن دينار، ولم يوثقه سوى ابن حبان، لذلك ذكره الذهبي في الميزان. (تحرير التقريب: ۱/۳۸۲).
فلا اعتبار لهذه الرواية فمن قال: الإسناد صحيح فلا يلتفت إلى قوله.

شیخ شعیب الارنؤوط نے چند شواہد ذکر کیے ہیں لیکن سب ضعیف ہیں، ضعاف اور مراسیل کی تائید سے حدیث کو حسن بتلانا کیسے درست ہوگا جب کہ کسی صحابی پر الزام لگتا ہو؟ لہذا ان شواہد کا کوئی اعتبار نہیں ۔ ملاحظہ ہو:

عن ابن عباس رضي الله عنه عند الطبري أيضاً في "تفسيره" (۲٦/۱۲۳. ۱۲٤)، والبيهقي في "السنن الكبرى" (۹/۵٤. ۵۵)، وفي إسناده الحسين بن الحسن بن عطية العوفي وأبوه وجده وهم ضعفاء.
وعن أم سلمة عند الطبري أيضاً (۲٦/۱۲۳)، والطبراني: ۲۳/ (۹٦۰)، وفي إسناده موسى بن عبيدة، وهو ضعيف، وثابت مولى أم سلمة مجهول، ومع ذلك ذكره ابن حبان في "الثقات" (٤/۹۵)، وقال: روى عنه أهل المدينة.
وعن جابر بن عبد الله عند الطبراني في "الأوسط" (۳۸۰۹) وإسناده ضعيف.
وعن علقمة بن ناجية عند الطبراني في "الكبير" ۱۸ (٤)، وإسناده ضعيف كذلك. (تعليقات الشيخ شعيب على مسند الإمام أحمد: ۳۰/٤۰۵. ٤۰٦، رقم ۱۸٤۵۹).

علاوہ ازیں ابو داود شریف کی روایت میں ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر ولید بن عقبہ بچے تھے رسول اللہ
ﷺ
نے بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرا لیکن ولید بن عقبہ کے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا اس لیے کہ ان کی ماں نے جو خوشبو ان کے سر پر لگائی تھی وہ آپ
ﷺ
کو پسند نہیں تھی ۔ ملاحظہ ہو:

عن الوليد بن عقبة رضي الله عنه قال لما فتح نبي الله ﷺ مكة جعل أهل مكة يأتونه بصبيانهم فيدعو لهم بالبركة ويمسح رؤوسهم قال فجيء بي إليه وأنا مخلق فلم يمسني من أجل الخلوق. (رواه أبو داود: ۲/۲۲۳، باب في الخلوق للرجال، ط: إمداديه ملتان). [وسكت عليه أبو داود، قال أبو داود في رسالته إلى أهل مكة: ومالم أذكر فيه شيئاً فهو صالح وبعضها أصح من بعض]. (المقدمة لسنن أبي داود، ص: ۱).
وقد سكت عنه الإمام أبو داود لكن قال الشيخ عبد الفتاح أبو غدة نقلاً عن الحافظ ابن حجر في "النكت على مقدمة ابن الصلاح":
ومن هاهنا يتبين أن جميع ماسكت عليه أبو داود لا يكون من قبيل الحسن الاصطلاحي، بل هو على أقسام (۱) منه ما هو في الصحيحين (۲) أو على شرط الصحة (۳) ومنه ما هو من قبيل الحسن لذاته (٤) ومنه ما هو من قبيل الحسن إذا اعتضد وهذان القسمان كثير في كتابه جداً (۵) ومنه ما هو ضعيف لكنه من رواية من لم يجمع على تركه غالباً وكل هذه الأقسام تصلح للاحتجاج بها. (تعليقات القواعد في علوم الحديث للشيخ عبد الفتاح أبو غدة، ص۸۵، ط: دار السلام).
وأيضاً رواه الإمام أحمد في "مسنده" (۲٦/۳۰۵، رقم: ۱٦۳۷۹)، قال الشيخ شعيب في تعليقاته: إسناده ضعيف، لجهالة عبد الله الهمداني وهو أبو موسى، فقد انفرد بالرواية عنه ثابت بن الحجاج الكلابي، وجهله الذهبي وابن حجر في "التقريب"، وقال البخاري في "التاريخ الكبير" (۵/۲۲٤): لا يصح حديثه، وقال ابن عبد البر: أبو موسى هذا مجهول، والخبر منكر لا يصح الخ.
ورواه الطبراني في "الكبير" (۲۲/۱۵۱/٤۰۸)، وقال: هكذا رواه زيد بن أبي الزرقاء عن جعفر عن ثابت بن الحجاج عن عبد الله الهمداني (عن أبي موسى) عن الوليد بن عقبة، والصواب عن عبد الله الهمداني أبي موسى عن الوليد بن عقبة، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (۳/۲۵۲/رقم ۵۲۳۹)، وابن عمرو الشيباني في الآحاد والمثاني (۱/٤۰٦/۵٦٤) وقال عن أبي موسى عبد الله الهمداني عن الوليد بن عقبة، وابن عساكر في "التاريخ" (٦۳/۲۲۵)، وقال: وعندي إن عبد الله الهمداني هو أبو موسى يدل على ذلك ما أخبرنا قال ابن أبي خيثمة: أبو موسى الهمداني اسمه عبد الله وهذا حديث مضطرب الإسناد ولا يستقيم عند أصحاب التواريخ أن الوليد كان يوم فتح مكة صغيراً، والحافظ البغدادي في "معجم الصحابة" (ص: ۵۲۱۸، رقم ۲۰۹۷) عن ابن أحمد عن أبيه أحمد بن حنبل.
وللمزيد من البحث انظر: (العواصم من القواصم للشيخ ابن العربي رحمه الله (٤٦۸. ۵٤۳هـ) بتحقيق محب الدين الخطيب: ۹۲، ۹۳، ط: سهيل اكيدمي).

آپ ﷺ کی وفات فتح مکہ کے دو سال بعد ہوئی تو کیا ایک دو سال میں وہ حضرت مریم کی طرح اتنے بڑے ہو گئے کہ ان کو عامل بنا کر بھیجا گیا ۔
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ولید بن عقبہ اپنے بھائی کے ساتھ مدینہ منورہ اپنی بہن ام کلثوم کو لینے گئے تھے، اور یہ واقعہ فتح مکہ سے پہلے کا ہے، اگر وہ فتح مکہ کے موقع پر بچے تھے تو کیسے بہن کو لینے کیے لیے گئے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ حدیث اور تاریخ کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے لیکن ضعیف اور کمزور ہے، اس سے استدلال ناتمام ہے ۔ واقعہ ملاحظہ ہو:

روي الحاكم (م۳۲۱. ٤۰۵هـ) في "المستدرك" (٤/۷۸، رقم: ٦۹۲۷، ذكر أم كلثوم رضي الله تعالى عنها) بسنده فقال: حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني ثنا الحسن بن الجهم ثنا الحسن بن الفرج ثنا محمد بن عمر قال: لا يعلم قرشية خرجت من بيت أبويها مسلمة مهاجرة إلى الله ورسوله إلا أم كلثوم بنت عقبة، خرجت من مكة وحدها، وصاحبت رجلاً من خزاعة حتى قدمت المدينة في هدنة الحديبية، فخرج في أثرها أخواها الوليد وعمارة فقدما وقت قدومها فقالا: يا محمد فِ لنا بشرطنا وما عاهدتنا عليه، الخ.

یہ روایت ضعیف ہے اولاً تو محمد بن عمر الواقدی پر بہت کلام ہے امام بخاری وغیرہ نے متروک کہا ہے، اور اس میں انقطاع ہے، دوسرے راوی حسین بن فرج پر بھی کلام ہے، یحیی بن معین نے کذاب فرمایا، امام ابو زرعہ نے
"ذهب حديثه، ليس بشيء"
فرمایا ۔
مزید ملاحظہ ہو: (
الكاشف: ۲/۲۰۵، ترجمة: ۵۰۷۸، وكتاب الضعفاء لابن الجوزي: ۱/۲۱٦، ترجمة: ۹۰٦).
ورواه البيهقي في "السنن الكبرى" (۹/۲۲۹، باب نقض الصلح) بسنده عن الزهري وعبد الله بن أبي بكر.
قلت: فيه أحمد بن عبد الجبار وهو ضعيف، قال ابن عدي فيه: رأيت أهل العراق مجتمعين على ضعفه لأنه حدث عمن لم يلقه. وقال أبو حاتم الرازي: ليس بالقوي، قال الحافظ: وقد ضعفه جماعة.
وللمزيد من البحث انظر: (الميزان: ۱/۱۱۲، ترجمة: ٤٤۳، والضعفاء لابن الجوزي: ۱/۷۵، ترجمة: ۱۹۵، واللسان: ترجمة: ۲۲۲۹، والتقريب، ص۱٤).

طبرانی وغیرہ میں ایک اور سند کے ساتھ یہ واقعہ مذکور ہے لیکن اس میں ایک راوی عبد العزیز بن عمران ضعیف ہے ۔

قال الهيثمي في "المجمع" (۷/۱۲۳، سورة الممتحنة، دار الفكر): رواه الطبراني وفيه عبد العزيز بن عمران وهو ضعيف.

نیز یہ واقعہ: "
معرفة الصحابة: (۳/۱۰٤)، ترجمة ۱۵۷۵ـ عبد الله بن أبي أحمد بن جحش، والطبقات الكبرى لا بن سعد: (۸/۲۳۱)، ترجمة أم كلثوم، دار صادر بيروت، وتفسير ابن كثير: (٤/۳۷۰)، سورة الممتحنة، وتاريخ دمشق: (۲۹/۳۵۸)، والآحاد والمثاني: (۱/٤۹۷)، رقم: (٦۰۹)، وأسد الغابة: (۳/٦۷)"
وغیرہ میں سند کے ساتھ مذکور ہے لیکن سند ضعیف اور منقطع ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے بنا بریں یہ واقعہ مخدوش ہے ۔
علی سبیل التنزل اگر صحیح تسلیم کر لے تب بھی ولید بن عقبہ کے فتح مکہ کے موقع پر بچے ہونے میں فرق نہیں آئے گا، اس لیے کہ ولید بن عقبہ کا یہ سفر اپنے بھائی کی رفاقت میں ہوا تھا، لہذا عمارہ اصل تھے اور ولید تابع اور بچے تھے، اور بڑے بھائی کی رفاقت میں عام طور پر چھوٹے بھائی کا سفر ہوتا ہے اس سے ان کا بڑا ہونا لازم نہیں آتا ۔ جیسا کہ العواصم، ص۹۳ کے حاشیہ میں مذکور ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں:

وأصل هذا الخبر إن صح مقدم فيه اسم عمارة على اسم الوليد، وهذا مما يستأنس به في أن عمارة هو الأصل في هذه الرحلة وأن الوليد جاء في صحبته، وأي مانع يمنع قدوم الوليد صبياً بصحبة أخيه الكبير كما يقع مثل ذلك في كل زمان ومكان؟

یہ بھی یاد رہے کہ تمام روایات میں عمارہ مقدم نہیں ہے، بلکہ حاکم، بیہقی وغیرہ کی روایات میں ولید مقدم ہے اور معرفۃ الصحابہ، ابن کثیر وغیرہ کی روایات میں عمارہ مقدم ہے ۔
اگر ابو داود کی روایت ضعیف ہو اور بالفرض ولید بن عقبہ رضي اللہ عنہ مراد ہو تو قرآن کے سیاق اور در منثور کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ کے کچھ شیطان قسم کے لوگ آئے اور ان کو بتلایا کہ قبیلہ والے آپ کے در پئے آزار ہیں تو حضرت ولید رضي اللہ عنہ آئے اور آپ ﷺ کو بتلا دیا ۔ ملاحظہ ہو در منثور میں ہے:

عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: بعث النبي ﷺ الوليد بن عقبة إلى بني المصطلق يصدق أموالهم فسمع بذلك القوم فتلقوه يعظمون أمر رسول الله ﷺ فحدثه الشيطان أنهم يريدون قتله، فرجع إلى رسول الله ﷺ فقال: إن بني المصطلق منعوا صدقاتهم، فبلغ القوم رجوعه، فأتوا رسول الله ﷺ، فقالوا: نعوذ بالله من سخط الله وسخط رسوله بعثت إلينا رجلا مصدقاً فسررنا لذلك وقرت أعيننا ثم أنه رجع من بعض الطريق فخشينا أن يكون ذلك غضباً من الله ورسوله ونزلت: ﴿يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبأ﴾ الآية. (الدر المنثور: ۷/۵۵٦، ط: دار الفكر).

پھر آیت کا مطلب یہ ہوگا: اے ایمان والو یعنی ولید رضي اللہ عنہ یا کوئی اور اگر آپ کے پاس فاسق یعنی کا فر خبر لائے تو اس کی تحقیق کرو اور بے تحقیق اس کو قبول مت کرو ۔
اور روایات میں بھی اضطراب ہے مثلاً بعض میں ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضي اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور بعض میں رجل کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضي اللہ عنہ کو تحقیق کے لیے بھیجا وہ گئے اور اس بستی کی اذان سنی اور بعض روایات میں آتا ہے کہ زکوۃ کا مال جمع کر کے وہ لوگ خود حضور ﷺ کے پاس آئے اور بعض روایات میں آتا ہے ان کے سردار حضرت حارث بن ضرار الخزاعی رضي اللہ عنہ نے خود زکوۃ جمع کروائی اور اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوے لہذا روایات کا اضطراب بھی ضعفِ واقعہ کی دلیل ہے ۔
یہ تمام روایتیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں در منثور ج۷، تاریخ مدینہ دمشق ج٦۳، طبرانی کبیر ج۳، اور مجمع الزوائد ج۷، وغیرہ ۔
خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کو مطعون کرنے میں ضعیف روایات کا اعتبار نہیں اور صحابی پر فسق کا حکم لگانا اہلِ سنت کے نزدیک جائز نہیں جیسے امام رازی رحمہ اللہ نے فرمایا: "
ويتأكد ما ذكرنا أن إطلاق لفظ الفاسق على الوليد شيء بعيد". (التفسير الكبير: ۲۸/۱۱۹).
قال الشيخ عبد الرحمن محمد سعيد في كتابه "أحاديث يحتج بها الشيعة" (ص: ۵٤۲):
أورد ابن كثير رحمه الله أقوالاً لمجاهد رحمه الله وقتادة رحمه الله وابن أبي ليلى رحمه الله، وكلها روايات مرسلة وهذه المرسلات لا تصح لإثبات تهمة الفسق على صحابي فإننا لا نقبلها في أحكام الطهارة ولا الصلاة، فكيف نقبلها في جرح خيار هذه الأمة؟

حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں خلاصہ کلام:
(۱) ولید بن عقبہ کے بارے میں اکثر روایات ضعیف اور مرسل ہیں، عقائد میں ان کا اعتبار نہیں ۔
(۲) قرآنِ کریم کی اصطلاح میں اکثر و بیشتر فاسق کافر کو کہتے ہیں ۔ چند مثالیں بطورِ "مشتے نمونہ از خروارے" درجِ ذیل ہیں: ۔

قال الله تعالى: ﴿ففسق عن أمر ربه﴾ وقال: ﴿وأما الذين فسقوا ففي النار﴾ وقال: ﴿إن الله لا يهدي القوم الفاسقين﴾ وقال: ﴿أفمن كان مؤمناً كمن كان فاسقاً﴾ فكان الفاسق في اصطلاح القرآن هو الكافر، والفاسق بمعنى المؤمن العاصي اصطلاح حديث للفقهاء رحمهم الله تعالى. نعم ورد في بعض مواضع القرآن.
(۳) ووليد اعتمد عليه الشيخان وكان عمل الإمارة خمس سنين.
اور ان حضرات نے ولید پر فسق کا الزام نہیں لگایا ۔

(٤) ولو أن المراد الوليد لقيل: يا أيها النبي إن جاءك فاسق بنبأ
کیونکہ بقولِ مفسرین حضرت ولید نے آپ ﷺ سے یہ شکایت فرمائی کہ جن کے پاس آپ نے مجھے صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا وہ تو میری جان کے درپے تھے ۔

(۵) ووليد صحابي كيف يكون فاسقاً بالنص والصحابة كلهم عدول مبرؤون عن الفسق.

(٦) فتحِ مکہ کے موقع پر بچے تھے تو ایک دو سال میں اتنے بڑے ہو گئے ۔ ابو داود شریف کی روایت سے بچہ ہونا معلوم ہوتا ہے ۔ (یہ جواب احتمال کے درجہ میں ہے) ۔
لیکن اس پر چند اشکالات ہیں:
(الف) روایت پر کلام ہے جو ما قبل میں گزر چکا ہے ۔
(ب) جب ان کی بہن نے مسلمان ہو کر ہجرت فرمائی تو ان کو واپس لا نے کے لیے یہ اپنے بھائی کے ساتھ گئے تھے بہن کی واپسی کے لیے اتنے دور مدینہ منورہ چھوٹے بچے کو بھیجنا بعید ہے اگر چہ اس کی سند پر بھی کلام ہے جو ما قبل میں گزر چکا ۔
(ج) ولید بن عقبہ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ کے عہد میں بلادِ قضاعہ کے عامل ر ہے ۔ (طبری) معلوم ہوا کہ ان کی عمر بڑی تھی نیز حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے بھی ان کو اہم عہدوں پر فائز فرمایا تھا ان قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ ابو داود شریف کی روایت صحیح نہیں ہے ۔ اور ولید بن عقبہ آپ ﷺ کے زمانہ میں بڑے تھے ۔
(۷) ولید خبر لانے سے قبل کہاں فاسق تھے؟ جب کہ اس سے پہلے ان سے کوئی فسق ثابت نہیں ۔ بالفرض اگر پہلے سے فاسق ہوں تو کیا فاسق کو اتنا نازک عہدہ سپرد کرنا درست ہے؟
(۸) خطا اجتہادی میں کیسے فاسق ہو گئے؟ کیونکہ استقبال کنندہ کو دشمن سمجھنا اجتہادی خطا تھی ۔
(۹) خبر لانے والے کے بارے میں روایات میں اضطراب ہے، جو ہم نقل کر چکے ہیں ۔
اشکال:
اگر کوئی یہ اشکال کرے کہ روایات میں اضطراب اور ضعف ہے لیکن کثرتِ طرق کی وجہ سے اتنی بات واضح ہو جاتی ہے کہ آیتِ کریمہ کا شانِ نزول ولید بن عقبہ ہیں؟
الجواب:
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آیتِ کریمہ کے شانِ نزول میں ولید بن عقبہ مراد ہیں تو بھی اس کا مطلب یہ ہے کہ ولید بن عقبہ
"يا أيها الذين آمنوا"
کا مصداق ہیں فاسق کا مصداق شیطان خصلت آدمی ہے جس نے یہ فتنہ انگیز خبر پہنچائی اور اس حصہ میں اضطراب بھی نہیں ہے اور قرآن کریم کے سیاق و سباق کے ساتھ بھی موافق ہے ۔
(۱۰) اگر ولید مراد ہو تو آیتِ کریمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ کچھ شیطان قسم کے لوگوں نے آ کر ولید کو بتایا کہ قبیلہ کے لوگ آپ کے در پئے آزار ہیں تو حضرت ولید نے آ کر آپ ﷺ کو بتلا دیا ۔ (در منثور) ۔
(۱۱) اگر فاسق سے حضرت ولید مراد ہوں تو صحابہ کرام رضي اللہ عنہ کے بارے میں بعد والی آیت اس کے منافی ہو جائے گی:
﴿ولكن الله حبب إليكم الإيمان وزينه في قلوبكم وكره إليكم الكفر والفسوق والعصيان أولئك هم الراشدون﴾
اللہ تعالی نے سب صحابہ کے لیے ایمان کو محبوب بنایا اور ان کے دلوں میں آراستہ کیا اور کفر و فسق اور معصیت کو ان کے لیے مبغوض بنایا یعنی صحابہ فاسق نہیں وہ فسق سے نفرت کرنے والے ہیں ۔ اس لیے حضرت ولید صحابی رضي اللہ عنہ نے جو فاسق شیطانی صفت آدمی کی خبر قبول کی وہ فسق سے محبت کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ خطا اجتہادی تھی ۔
یہ مطلب لیا جائے تو
"لكن"
کا مطلب بھی واضح ہو جاتا ہے اس لیے کہ "
لكن"
کا ما بعد اس کے ما قبل کے ساتھ منافی ہوتا ہے، نیز
"لكن"
ما قبل سے پیدا شدہ وہم کو دور کرنے کے لیے آتا ہے تو یہاں ما قبل میں فاسق کی خبر کو قبول کرنا فسق سے محبت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ صحابہ کے دلوں تو اللہ تعالی ایمان کو سجایا اور فسق و کفر سے نفرت رکھی ۔ یہ تو اجتہادی خطا تھی ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.