امام کا مقتدیوں کے ساتھ کھڑا ہونا :
Question
امام دوسرے مقتدیوں کے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہو تو کیا حکم ہے؟
Answer
بغیر عذر کے امام کا مقتدیوں کی صف میں کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے، لیکن اگر عذر ہے مثلاً جگہ نا کافی ہے اور صحن میں جگہ نہیں ہے یا جگہ ہے لیکن بارش یا شدید گرمی کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں تو پھر بلآ کراہت جائز ہے، لیکن اس بات کا خیال رکھے کہ مقتدی امام سے آگے نہ ہو ورنہ مقتدی کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ ملاحظہ ہو طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
وفي السيد وإن كثر القوم كره قيام الإمام وسطهم تحريماً لترك الواجب، وتمامه فيه. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ۳۰٦، فصل في بيان الأحق بالإمامة، قديمي)
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما بيان مقام الإمام والمأموم فنقول: إذا كان سوى الإمام ثلاثة يتقدمهم الإمام لفعل رسول الله ﷺ وعمل الأمة بذلك وروي عن أنس بن مالك رضي الله عنه أنه قال: إن جدتي مليكة دعت رسول الله ﷺ إلى طعام فقال رسول الله ﷺ: "قوموا لا صلي بكم فأقامني واليتيم من وراء ه وأمي أم سليم من وراء نا" ولأن الإمام ينبغي أن يكون بحال يمتاز بها عن غيره ولا يشتبه على الداخل ليمكنه الاقتداء به ولا يتحقق ذلك إلا بالتقدم ولو قام في وسطهم أو ميمنة الصف أو ميسرته جاز وقد أساء، أما الجواز فلان الجواز يتعلق بالأركان وقد وجدت وأما الإساءة فلتركه السنة المتوارثة. (بدائع الصنائع: ۱/۱٥۸، سعيد)
شامی میں ہے:
(والزائد يقف خلفه فلو توسط اثنين كره تنزيهاً وتحريماً لو أكثر أفاد أن تقدم الإمام أمام الصف واجب كما أفاده في الهداية والفتح. (شامي: ۱/٥٦۷، سعيد)
امداد الفتاح میں ہے:
وتقدم الإمام بعقبه عن عقب المأموم شرط لصحة اقتداء ه. (إمداد الفتاح: ص ۳۳۳، بيروت)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ایک مقتدی ہو تو امام کے برابر کھڑا ہو دو مقتدی ہوں تو امام کے برابر کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے اور دو سے زائد ہوں تو امام کے برابر کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے البتہ اگر پیچھے جماعت خانہ میں یا بر آمدہ اور صحن میں بھی جگہ نہ ہو، اگر ہو تو بارش یا شدید دھوپ کی وجہ سے کھڑا ہونا دشوار ہو تو پھر کراہت نہیں ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/٤۵)
نیز ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی: ۳/۲۹۸، باب الامامۃ ۔ و فتاوی محمودیہ: ٦/٤۹۳ ۔ وعمدۃ الفقه: ۲/۲۰٦ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/496
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-496