مقیم مسبوق مسافر کے پیچھے کس طرح نماز پوری کرے؟
Question
مسبوق مقتدی مسافر امام کے پیچھے آخری تشہد میں شریک ہوا تو نماز کیسے پوری کرے؟
Answer
اس مسئلہ میں ہمارے اکابر کا اختلاف رہا ہے، بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ مسافر امام کی فراغت کے بعد لاحق مسبوق ہے پس پہلی دو رکعتیں بلا قراءت ادا کرے گا کیوں کہ یہ لاحق ہے، اور تیسری اور چوتھی رکعت قراءت کے ساتھ ادا کرے گا یہی جواب مفتی عزیز الرحمن صاحب مفتی اعظم دیوبند نے تحریر فرمایا ہے اس پر شیخ الہند رحمه الله اور مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله اور حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کے دستخط ہیں، یہ حضرات شامی کی عبارت سے استدلال فرماتے ہیں:
ومقيم ائتم بمسافر قوله ومقيم أي فهو لاحق بالنظر للأخيرتين وقد يكون مسبوقاً أيضاكما إذا فات أول صلاة إمامه المسافر. (شامي: ۱/٥۹٤، أحكام المسبوق واللاحق)
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمه الله کی رائے یہ ہے یہ شخص صرف مسبوق ہے لاحق نہیں ہے لہذا امام کے فارغ ہونے کے بعد پہلی رکعت میں فاتحہ اور سورت پڑھ لے اور آخری دو رکعتوں کے درمیان قعدہ نہ کرے ۔ حضرت رحمه الله نے اس سلسلہ میں مفصل فتوی تحریر فرمایا ہے جس کی تفصیلات اور دلائل فتاوی خلیلیہ: ص ۹۹ ۔ ۱۱۳ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں ۔
دلائل میں سے کچھ حسبِ ذیل درج ہیں:
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن كان الإمام مسافراً والقوم مقيمين ومسافرين صلي الإمام بالطائفة الأولى ركعة ثم انصرفوا بإزاء العدو وجاءت الطائفة الثانية وصلي بهم ركعة فمن كان مسافراً خلف الإمام بقي إلى تمام صلاته ركعة ومن كان مقيما بقي إلى تمام صلاته ثلاث ركعات ثم ينصرفون بإزاء العدو وترجع الطائفة الأولى إلى مكان الإمام فمن كان مسافراً يصلي ركعة بغير قراءة لأنه مدرك أول الصلاة ومن كان مقيماً يصلي ثلاث ركعات بغير قراءة في ظاهر الرواية فإذا أتمت الطائفة الأولى صلاتهم ينصرفون بإزاء العدو وتجيء الطائفة الثانية إلى مكان صلاتهم فمن كان مسافراً يصلي ركعة بقراءة لأنه مسبوق ومن كان مقيماً يصلي ثلاث ركعات الأولى بفاتحة الكتاب وسورة لأنه كان مسبوقاً فيها وفي الأخريين بفاتحة الكتاب على الروايات كلها. (الفتاوى الهندية: ۱/۱٥٥، الباب العشرون في صلاة الخوف، بلوچستان)
شامی میں ہے:
(قوله والمقيم) ذكر في البحر أن المقيم المقتدي بالمسافر كالمسبوق في أنه يتابع الإمام في سجود السهو ثم يشتغل بالإتمام، وأما إذا قام إلى إتمام صلاته وسها فذكر الكرخي: أنه كاللاحق فلا سجود عليه بدليل أنه لا يقرأ، وذكر في الأصل: أنه يلزمه السجود وصححه في البدائع لأنه إنما اقتدي بالإمام بقدر صلاة الإمام، فإذا انقضت صار منفرداً وإنما لا يقرأ فيما يتم لأن القراءة فرض في الأوليين وقد قرأ الإمام فيهما. (شامي: ۲/۸۳، باب سجود السهو. وفي الشامي أيضا: ۱/٥۹٤، أحكام المسبوق)
محقق علماء نے حضرت سہارنپوری رحمه الله کے فتوے کو اختیار فرمایا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں مسافر امام کے پیچھے تشہد میں شریک ہونے والا مقیم مقتدی صرف مسبوق کے حکم میں ہے لہذا یہ مقتدی اقتداء سے علیحدہ ہو کر منفرد ہو جائے گا، اب اس کو چاہیے کہ پہلی دو رکعات سورۂ فاتحہ اور سورت کے ساتھ ادا کرے، اور آخری دو رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے اور دو رکعات پر قعدہ بھی کرے گا ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: فتاوی خلیلیہ:
۱/۹۹
۔
۱۱۳
، فصل فی حکم اللاحق و المسبوق، مکتبۃ الشیخ ۔ و احسن الفتاوی:
۳/۳۸
٦ ۔
۳۹۷
، باب المسبوق ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/562
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-562