دورانِ سفر گاڑی چلاتے ہوے نوافل پڑھنے کا حکم:
Question
ایک شخص بالکل سیدھے راستے پر گاڑی چلاتا ہے اور زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی مثلاً کیپ ٹاؤن کے راستے پر ہے اور گاڑی اپنے طور پر چلتی ہے تو کیا یہ شخص نفل نماز پڑھ سکتا ہے؟
Answer
فقہاء نے سواری چلاتے ہوے شہر سے باہر نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے اگر چہ کوڑا ہاتھ میں پکڑ کر جانور کو ڈراتا اور چبھوتا ہو اور ان تمام امور کو عملِ قلیل میں شمار کیا ہیں، لہذا اس صورت پر قیاس کرتے ہوے گاڑی چلاتے ہوے ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ پکڑ کر نوافل پڑھ سکتا ہے، ہاں دونوں ہاتھ استعمال کرنے سے نماز فاسد ہو جائے گی عملِ کثیر پائے جانے کی وجہ سے۔
نیز اس بات کا خیال رہے کہ راستہ کھلا ہوا ہو اور گاڑیوں کی آمد و رفت کثرت سے نہ ہوں ورنہ تسبیحات پر اکتفاء کرنا زیادہ بہتر ہے کیوں کہ جان کی حفاظت نوافل سے بھی بڑھ کر ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
ويتنفل المقيم نص على المتوهم فالمسافر من باب أولى راكباً خارج المصر محل القصر فائدته شمول خارج القرية وخارج الأخبية، انتهي، حلبي. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲۹۳)
(ويتنفل أي جاز له التنفل) لأن الصلاة خير موضوع فلو اشترط ما يشق من نحو النزول يلزم الانقطاع عن الخير قال في المبسوط لو لم يكن في التنفل على الدابة من المنفعة إلا حفظ اللسان من فضول الكلام لكان كافياً في جوازه (بل ندب له) لفعله ﷺ كثيراً
وإذا حرك رجله أو ضرب دابته فلا بأس به إذا لم يصنع شيئاً كثيراً (وإذا حرك) أشار به إلى أن تسييره لا يضر إذا كان بعمل قليل وهو المعتمد. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٤۰٥، في الصلاة على الدابة، قديمي)
فتاوی شامی میں ہے:
إذا حرك رجله أو ضرب دابته فلا بأس به إذا لم يكن كثيراً. قلت: ويدل له أيضاً ما في الذخيرة: إن كانت تنساق بنفسها ليس له سوقها وإلا فلو ساقها هل تفسد؟ قال: إن كان معه سوط فهيبها به ونخسها لا تفسد صلاته. (شامي: ۲/۳۹، سعيد. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱٤۳).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/757
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-757