فیکٹریوں اور کار خانوں میں جمعہ پڑھنے کا حکم:
Question
مختلف فیکٹریوں میں جن میں باہر سے لوگ نہیں جا سکتے ہیں جمعہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ نیز اسکولوں اور کالجوں میں بھی یہی صورتِ حال ہے لہذا ان میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں فیکٹری، اسکول، کالج وغیرہ ایسے شہر میں ہیں جس میں شرائطِ جمعہ پائے جاتے ہیں یا فناء شہر میں ہیں تو ان سب میں جمعہ قائم کرنا صحیح اور درست ہے ۔ اور باہر سے لوگوں کا نہ آنا مانع نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
والسابع الإذن العام
فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو عادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو المصلي
وفي الشامية: والذي يضر إنما هو منع المصلين لا منع العدو. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۱٥۲، باب الجمعة، سعيد كمپني. وكذا في مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي: ص ٥۱۰، باب الجمعة، قديمي.)
نیز مذکور ہے:
فلو دخل أمير حصناً أو قصره وأغلق بابه وصلى بأصحابه لم تنعقد
وفي الشامية: قلت: وينبغي أن يكون محل النزاع ما إذا كانت لا تقام إلا في محل واحد، أما لو تعدد فلا لأنه لا يتحقق التفويت كما أفاده التعلى ل تأمل (قوله لم تنعقد) يحمل ما إذا منع الناس فلا يضر إغلاقه لمنع عدو أو عادة كما مر ط. قلت: ويؤيده قول الكافي واجلس البوابين الخ فتأمل. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۱٥۲، باب الجمعة، سعيد)
احسن الفتاوی میں ہے:
کارخانہ میں جمعہ پڑھنا: یہاں چوروں سے حفاظت مقصود ہے، نماز یوں کو روکنا مقصود نہیں، نیز بیرونی لوگ دوسری مساجد میں جمعہ پڑھ سکتے ہیں، لہذا اذن عام نہ ہونا صحتِ جمعہ میں مخل نہیں، اس میں نماز جمعہ صحیح ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۱۲۰، باب الجمعہ)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۸/۱۸٤، فیکٹری میں جمعہ، جامعہ فاروقیہ ۔ و امداد الفتاوی: ۱/٦۱۱ ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/۹۷ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/768
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-768