خطبہ کے وقت عصا ہاتھ میں لینے کا حکم:
Question
شریعت کا کیا حکم ہے عصا کے متعلق جمعہ کے دن خطبہ کے لیے کیا واجب ہے یا فرض یا سنت؟ کیا عصا نہ پکڑنے والا کافر ہو جائے گا؟
Answer
فقہائے کرام نے لکھا ہے اگر کوئی شہر تلوار سے فتح ہوا ہو تو اس میں امام کو چاہیے کہ تلوار بائیں ہاتھ میں لے اور اس پر ٹیک لگا کر خطبہ دے علامہ شامی رحمه الله نے اس کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
أي بالسيف ليريهم أنها فتحت بالسيف فإذا رجعتم عن الإسلام فذلك باقي في أيدي المسلمين يقاتلونكم حتى ترجعوا إلى الإسلام، درر. (شامي: ۲/۱٦۲، سعيد)
یعنی لوگوں کو یہ دکھائے کہ یہ شہر تلوار سے فتح ہوا ہے اگر تم نے اسلام کو چھوڑا تو مسلمانوں کے ہاتھ میں اب بھی تلوار باقی ہے تم سے لڑ کر تم کو اسلام کی طرف لوٹائیں گے ۔
اور اگر کوئی شہر یا ملک بزورِ شمشیر فتح نہیں کیا گیا بلکہ دعوت و تبلیغ یا صلح سے فتح ہوا ہو تو وہاں عصا کے سہارے خطبہ دیا جائے ۔ مگر یہ عمل نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ سنتِ مؤکدہ بلکہ ایک مستحب عمل ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ لوگوں کی فرضیت اور لازم ہونے کا عقیدہ وابستہ نہ ہو ۔ اگر لوگ اس کو ضروری سمجھنے لگیں تو پھر اس کو چھوڑنا چاہیے ۔
علامہ طیبی نے شرح مشکوۃ میں لکھا ہے کہ مستحب عمل پر اصرار کرنے سے بدعت بن جاتا ہے پھر جو شخص عصا چھوڑنے والے کو کافر کہتا ہے وہ سخت گنہگار اور عاصی ہے اس کو توبہ کرنی چاہیے کسی مسلمان کو کافر کہنا یا سمجھنا سخت گناہ ہے ۔
امداد الاحکام میں ہے:
عصا لینا مستحب ہے لیکن اگر اس کو ضروری سمجھا جاوے اور تارک پر ملامت کی جائے تو التزام مالا یلزم کی وجہ سے منع کیا جائے گا ۔
في الدر: ويكره أن يتكئ على قوس أو عصا. وفي الشامي: نقل القهستاني: عن المحيط أن أخذ العصا سنة كالقيام. (
امداد الاحکام: ۱/۷۵۹، کراچی)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۸/۲۷۰، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/۱٤۳ ۔
خلاصہ یہ ہے کہ امام صاحب کو چاہیے کہ اکثر و بیشتر عصا نہ پکڑے، ہاں عوام کے عقیدے کی اصلاح کے
بعد مستحب پر عمل کرتے ہوے گا ہے گا ہے عصا ہاتھ میں لیا کریں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/782
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-782