طلبہ سے سزا کے طور پر نماز پڑھوانا:

1 min readFatwa Vol 2 #465Urdu

Question

بعض مدارس میں طلبہ سے سزا کے طور پر ۳۰ یا ۵۰ رکعت نوافل پڑھوائی جاتی ہے کیا نماز کو سزا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا اس نماز کا ثواب اس کو ملے گا؟

Answer

مدارس میں طلبہ سے سزا کے طور پر نماز پڑھوانا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے نیز نماز کا ثواب بھی اس کو ملے گا جیسا کہ نبی پاک ﷺ نے کسرِ شہوت کے لیے روزہ رکھنے کو فرمایا تو اس میں روزہ کا ثواب بھی ہے اور کسرِ شہوت بھی ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع ف عليه بالصوم فإنه له وجاء. (بخاري شريف: ۲/۷٥۸. ومشكاة: ۲/۲٦۷)

ظاہر ہے کہ یہ روزہ براہِ راست رضاءِ الٰہی کے لیے نہیں بلکہ زنا سے بچنے کے لیے کسرِ شہوت ہے یہاں بھی نماز پڑھوانا نفس کو سزا دینے اور مدرسہ کے احکام بجا لانے کے لیے ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.