میت کو غسل دیتے وقت کفن پر عطر ملنے کا حکم:
Question
میت کو غسل دیتے وقت اس کے کفن پر لوگ عطر لگاتے ہیں شریعت میں اس کا ثبوت ہے یا نہیں یا لوگوں نے خواہ مخواہ عادت بنالی ہے؟
Answer
بعض روایات سے کفن پر خوشبو لگانے کا ثبوت ملتا ہے، اس وجہ سے اس کی گنجائش ہے، اور زیادہ تشدد مناسب نہیں ہے ۔ نیز احادیث میں کفن کو خوشبو دار چیز سے دھونی دینے کا ذکر موجود ہے ۔ ملاحظہ ہو نصب الرایہ میں ہے:
روى ابن حبان في "صحيحه". والحاكم في المستدرك"، وقال: صحيح على شرط مسلم عن قطبة بن عبد العزيز عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر رضي الله عنه أن النبي ﷺ، قال: "إذا أجمرتم الميت فأجمروا ثلاثاً"، وفي لفظ لابن حبان: فأوتروا. وفي لفظ للبيهقي: جمروا كفن الميت ثلاثاً، قال النووي: وسنده صحيح
(نصب الراية: ۲/۲٦٤، فصل في التكفين، وإعلاء السنن: ۸/۲٤۹).
ورواه أحمد (۱٤٥۸۰)، بسنده عن جابر رضي الله عنه، قال الشيخ شعيب: إسناده قوي على شرط، وابن أبي شيبة في "مصنفه" (۱۱۲۳۲)، وأبو يعلى في "مسنده" (۲۳۰۰)، قال حسين أسلم أسد: إسناده صحيح على شرط مسلم، وقال الهيثمي: رجاله رجال الصحيح. (مجمع الزوائد: ۳/۲٦).
وعن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنه أنها قالت لا هلها: أجمروا ثيابي إذا أناْ مت، ثم كفنوني، ثم حنطوني
(مصنف عبد الرزاق: ۳/٤۱۷، المجلس العلمي).
وفي المصنف لابن أبي شيبة: عن أسماء، أنها قالت عند موتها إذا أناْ مت فأغسلوني وكفنوني وأجمروا ثيابي. (مصنف ابن أبي شيبة: ۳/۲٦٥/۱۱۲۲٤).
وفي نصب الراية: ورواه مالك في "الموطأ" عن هشام به، وزاد: وحنطوني، ولا تتبعوني بنار، انتهى. وهذا سند صحيح. (نصب الراية: ۲/۲٦٤، فصل في التكفين).
مذکورہ بالا روایات میں میت اور کفن کو خوشبو دار چیز کی دھونی دینے کا ذکر ہے جس کا مقصد میت اور کفن کو خوشبو دار کرنا ہے اور عطر میں یہ علی وجہ الکمال پایا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے عطر کو خوشبو دار دھونی پر قیاس کیا جا سکتا ہے، نیز بعض روایات میں میت پر حنوط لگانے کا ذکر ہے اس کا مقصد بھی میت کے جسم کو خوشبو دار بنانا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (
مصنف عبد الرزاق: ۳/٤۱٤، المجلس العلمي، وإعلاء السنن: ۸/۲۱۸، ونصب الراية: ۲/۲٥۹).
البتہ جو خوشبو مرد کے لیے زندگی میں مکروہ ہے وہ بعد الموت بھی مکروہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
قوله وجعل الحنوط على رأسه ولحيته، لأن التطيب سنة وذكر الرازي أن هذا الجعل مستحب والحنوط مركب من أشياء طيبة ولا بأس بسائر الطيب غير الزعفران والورس اعتباراً بالحياة وقد ورد النهي عن المزعفر للرجال وبهذا يعلم جهل من يجعل الزعفران في الكفن عند رأس الميت في زماننا. (البحر الرائق: ۲/۱۷۳، كوئته).
فتاوی محمودیہ میں ہے: سوال: خوشبو کفن میں لگانا کیسا ہے؟
الجواب: مستحب ہے: "
وصفة تكفين الرجل أن يبخر الكفن أولاً بالبخور الطيبة، ويرش عليه الحنوط إن وجد، ويبسط اللفافة، ثم الإزار وهو من القرن إلى القدم ثم يجعل عليه حنوط إن وجد، ويطلي بالكافور مساجده
الخ. (رسائل الأركان، ص: ۱٥٤).
البتہ جو خوشبو مرد کے لیے حالتِ حیات میں منع ہے یعنی ورس اور زعفران، اس کا کفن میں لگانا بھی منع ہے، اسی کو در مختار میں لکھا ہے کہ یہ جہل ہے (فتاوی محمودیہ: ۸/۵۲٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
مردے کو کفن پہنانے سے پہلے کفن کو لوبان کی دھونی دینا مسنون ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۱۰۳) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
بعض کتبِ فقہ میں پورے جسم پر خوشبو لگانے کی اجازت ہے، مگر ستر کو دیکھنے اور ہاتھ لگانے سے احتراز ضروری ہے، غالباً اسی لیے اپنے یہاں دستور ہے کہ کفن پھیلا کر اس پر حنوط (مرکب خوشبو) چھڑک دیا جاتا ہے اور اس پر میت کو لٹا کر کفن لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ سارا جسم معطر ہو جائے، اس طرح ستر کو ہاتھ لگنے اور نظر پڑنے سے حفاظت رہتی ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/٤۹۹، ط: دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/841
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-841