تعزیت کے متعلق ضروری ہدایات:
Question
تعزیت کے متعلق ضروری ہدایات:
Answer
تعزیت کے فضائل:
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال من عزي مصاباً فله مثل أجره. (رواه ابن ماجة: ۱۱٥، باب ما جاء في ثواب من عزي. والترمذي: ۱/۲۰٥، باب ما جاء في اجرمن عزي، فيصل. والبيهقي في السنن الكبرى: ۲/۳۲۲/۷۳۳۹، باب ما يستحب من تعزية أهل)
ترجمہ: جو شخص مصیبت زدہ کی تعزیت کرے خدا تعالی اس کو اتنا ثواب دے گا جتنا مصیبت زدہ کو (اس کے صبر کرنے پر) ۔
وعن أبي برزة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال من عزي ثكلي كسي برداً في الجنة. (رواه الترمذي: ۱/۲۰٦، باب آخر في فضل التعزية، فيصل)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسی عورت کی تعزیت کرے جس کا بچہ مر گیا ہو تو اس کو جنت میں چادر اڑھائی جائے گی ۔
وعن عمرو بن حزم رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال ما من مؤمن يعزي أخاه بمصيبة إلا كساه الله عزوجل من حلل الكرامة يوم القيامة. (رواه ابن ماجة بإسناد حسن: ص ۱۱٥، باب ما جاء في ثواب من عزي)
یعنی جو شخص مصیبت و پریشانی کے وقت اپنے بھائی کو تسلی دے اور اس کی تعزیت کرے تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس کو بزرگی اور کرامت کا لباس پہنائیں گے ۔
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: من عزي أخاه المؤمن من مصيبة كساه الله يوم القيمة حلة خضراء يحبر بها يوم القيمة قيل: يا رسول الله ما يحبر؟ قال: يغبط. (تاريخ بغداد: ۷/۳۹۷، بيروت)
وقال الإمام النووي رحمه الله: التعزية مشتملة على الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وهي داخلة أيضا في قول الله تعالي: ﴿وتعاونوا على البر والتقوى﴾ وهذا من أحسن ما يستدل به في التعزية وثبت في الصحيح أن رسول الله ﷺ قال: والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه.
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه في حديث طويل أن النبي ﷺ قال لفاطمة رضي الله عنه ما أخرجك يا فاطمة من بيتك؟ قالت: أتيت أهل هذا الميت فترحمت إليهم ميتهم أو عزيتهم به. (رواه أبو داود: ۲/۸۹، باب في التعزية، سعيد. والنسائي)
وعن أبي بكر الصديق رضي الله عنه وعمران بن حصين رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ قال: قال موسى عليه السلام لربه عزوجل ما جزاء من عزي الثكلي قال: أجعله في ظل يوم لا ظل إلا ظلي. (رواه ابن السني في عمل اليوم والليلة: ص ۱٥۸، دائرة المعارف العثمانية)
تعزیت کا مسنون طریقہ:
تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ تدفین کے بعد یا تدفین سے قبل میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دے ان کی دل جوئی کرے، صبر کی تلقین و ترغیب دے اور ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے ک ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ و کفایت المفتی)
تعزیت کی منقول دعائیں:
(
۱) إن ﷲ ما أخذ وله ما أعطي وكل شيء عنده لا جل مسمي فلتصبر ولتحتسب. (بخاري شريف: ۱/۱۷۱، باب قول النبي ﷺ يعذب الميت، قديمي)
یعنی جو لیا وہ بھی خدا کا ہے اور جو کچھ دیا وہ بھی اس کی ملکیت ہے، ہر ایک چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے (یعنی مرحوم کی زندگی متعین تھی) پس صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو ۔
(۲) اللهم اغفر له وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين وغفرلنا وله يا رب العالمين وافتح له في قبره ونور له فيه. (مسلم شريف: ۱/۱۰۳، كتاب الجنائز)
(۳) اللهم اخلفه في أهله وبارك له في صفقة يمينه، قالها ثلاث مرات. (مسند أحمد)
(٤) أعظم الله أجرك وأحسن عزاء ك وغفر لميتك. (الأذكار للنووي رحمه الله: ص ۱۳٦، باب التعزية، مكتبة القدس)
خدا تم کو اجرِ عظیم عطا فرمائے اور تمہارے صبر کا بہترین صلہ عنایت فرمائے اور آپ کی میت کی بخشش کرے ۔
(٥) إنا لله وإنا إليه راجعون ما شاء الله كان وما لا يشأ لا يكون غفر الله له وأسكنه جنة الفردوس وأفاض عليه شآبيب غفرانه وادعوا الله تعالى أن يفرغ على قلوبكم صبراً جميلاً وعلى من فقد تم أجراً جزيلاً بلطفه ورحمته آمين بحرمة سيد المرسلين ﷺ. (
فتاوی رحیمیہ)
تعزیت بذریعۂ خط بھی مسنون ہے:
مجبوری یا دوری کی بنا پر بذاتِ خود حاضر نہ ہو سکے تو بذریعۂ خط بھی تعزیت کرے کہ یہ بھی سنت ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ان کے صاحبزادے کی وفات پر تعزیتی خط لکھا تھا، وہ خط مبارک یہ ہے:
وكتب النبي ﷺ إلى معاذ بن جبل رضي الله عنه يعزيه في ابن له:
"بسم الله الرحمن الرحيم: من محمد رسول الله إلى معاذ بن جبل سلام عليك فاني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، أما بعد فأعظم الله لك الأجر وألهمك الصبر ورزقنا وإياك الشكر، ان أنفسنا وأهلينا وأموالنا وأولادنا من مواهب الله عزوجل الهنية وعوارية المستودعة يمتع بها إلى أجل معلوم ويقبض لوقت محدود ثم افترض علينا الشكر إذا أعطي والصبر إذا ابتلي وكان ابنك من مواهب الله الهنية وعواريه المستودعة متّعك به في غبطة وسرور وقبضه منك بأجر كبير، الصلاة والرحمة والهدي، إن احتسبته فاصبر ولا يحبط جزعك أجرك فتندم، واعلم أن الجزع لا يرد شيئاً ولا يدفع حزناً وما هو نازل فكان قد والسلام". (حلية الأولياء: ۱/۲٤۳، دار الفكر، مع المستدرك على الصحيحين: ۳/۳٤۱/٥۱۹۳، دار ابن حزم).
یعنی: نبی کریم ﷺ نے حضرت معاز بن جبل رضی اللہ عنہ کو ان کے لڑ کے کی تعزیت کے بارے میں لکھا ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے رسول محمد ﷺ کی جانب سے معاذ بن جبل کے نام، تم پر سلامتی ہو، میں تمہارے سامنے اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، حمد و ثنا کے بعد اللہ تعالی تمہیں اجرِ عظیم عطا فرمائے اور صبر کی توفیق دے اور ہ میں اور تمہیں شکر کی توفیق نصیب فرمائے، ا س لیے کہ بے شک ہماری جانیں اور ہمارا ما ل اور ہماری بیویاں اور ہماری اولاد (سب) اللہ بزرگ و برتر کے مبارک عطیے عاریت کے طور پر سپرد کی ہوئی چیزیں ہیں جن سے ہ میں ایک خاص مدت تک فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جاتا ہے اور مقررہ وقت پر اللہ تعالی ان کو واپس لے لیتا ہے، پھر ہم پر فرض عائد کیا گیا ہے کہ جب وہ عطا کرے تو ہم شکر ادا کریں اور جب وہ آزمائش کرے ( اور ان کو واپس لے لے) تو صبر کریں، تمہارا بیٹا بھی اللہ تعالی کی ان خوشگوار نعمتوں اور سپرد کی ہوئی امانتوں میں سے ایک امانت تھا اللہ تعالی نے تمہیں اس سے قابل رشک اور لائق مسرت صورت میں نفع پہنچایا، اور (اب) اجرِ عظیم،، رحمت و مغفرت اور ہدایت کے بدلہ اسے اٹھا لیا اگر تم ثواب چاہتے ہو تو صبر کرو، کہیں تمہاری بے صبری ( اور تمہارا رونا دھونا) تمہارا ثواب نہ کھو دیں، پھر تمہیں پشیمانی اٹھانی پڑے اور یا د رکھو کہ رونا دھونا کوئی چیز لوٹا کر نہیں لاتا اور نہ ہی غم و اندوہ کو دور کرتا ہے اور جو ہونے والا ہے وہ تو ہو کر رہے گا اور جو ہونا تھا وہ ہو چکا، و السلام ۔ (حصن حصین ص ۱۸۰، پانچویں منزل بروز پیر)
تسلی بخش اور عبرت خیز کلمات:
دنیا میں ہر آنے والے کو ایک دن جانا ہے یہ خدا کا اٹل فیصلہ ہے:
٭
لا تقل فيما جري كيف جري كــل شــيء بقــضــاء وقـــدر
جو کچھ ہوا اس کے متعلق یوں نہ کہو کہ یہ کیسے ہوا، ہر چیز قضا و قدر کے موافق ہوتی ہے ۔
٭
ألا يا ساكن القصــر المعلى ستدفن عن قريب في التـراب
اے اونچے محل کے رہنے والے ہوشیار ہو جا، عنقریب تو مٹی میں دفن کیا جائے گا ۔
٭
لـه ملـــك ينادي كل يـــوم لِدوا للموت وابنوا للخـراب
فرشتہ ہر روز پکارتا ہے کہ مرنے کے لیے بچے جنو اور اجڑ نے کے لیے عمارت بناؤ ۔
٭
قـليــل عمـرنـا في دار دنيــا ومرجــعنا إلى بــيــت التــراب
ہماری عمر دنیا میں بہت تھوڑی ہے اور ہم سب کا مرجع مٹی کا گھر ہے ۔
اور جب وقتِ مقرر آ جاتا ہے تو کوئی تدبیر کا ر گر نہیں ہو سکتی ۔ حضرت معاویہ رضي الله عنه کا ارشاد ہے:
٭
وإذا المنية أنشبت أظفارهـــا ألقــيــت كل تميمــة لا تنفع
جب موت اپنے پنجے گاڑ دیتی ہے تو کوئی تعویذ اور علاج نفع نہیں پہنچاتا ۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ایک بدوی نے ان کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی تعزیت کی اور یہ اشعار کہے:
٭
اصبر تكن بك صابرين فإنما صبر الرعية بعد صبر الرأس
٭
خير من العباس أجرك بعــده والله خيـر منــك للعبــاس
یعنی آپ صبر کیجیے کہ ہم آپ کی وجہ سے صبر کریں اس لیے کہ بڑوں کو صبر کرتا ہوا دیکھ کر چھوٹے صبر کرتے ہیں، صبر کرنے پر آپ کو اجر ملے گا وہ آپ کے لیے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے بہتر ہے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو خدا کا جو قرب حاصل ہوا وہ ان کے لیے آپ کی بہ نسبت زیادہ نفع بخش ہے ۔
منقول ہے کہ ان اشعار سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو تسلی اور سکون قلبی حاصل ہوا ۔
(ملخص از فتاوی رحیمیہ ٦/۳٤۱ ۔ ۳٤٦، تعزیت کا مسنون طریقہ اور بذریعہ خط تعزیت کرنا، مسائل شتیٰ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/887
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-887