میت کے گھر طعامِ ضیافت کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #11Urdu

Question

میت کے گھر تین دن تک دعوتوں کا سلسلہ جاری رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بعض علاقوں میں یہ دستور ہے کہ میت کے گھر ضیافت کا کھانا تیار کرتے ہیں اور برادری وغیرہ کو دعوت دیتے ہیں، یہ قبیح رسم ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، علامہ شامی رحمه الله نے فرمایا اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک نہیں ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة، وروى الإمام أحمد رحمه الله وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: "كنا نعد الاجتماع عند أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة". وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص، والحاصل: أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لا جل الأكل يكره وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ للفقراء كان حسناً، وأطال في ذلك في المعراج وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيتحرز عنها، لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. (الشامي: ۲/۲٤۰، مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت، سعيد).
وفي الفقه على المذاهب الأربعة:
ومن البدع المكروهة ما يفعل الآن من ذبح الذبائح عند خروج الميت من البيت أو عند القبر وإعداد الطعام لمن يجتمع للتعزية كما يفعل ذلك في الأفراح ومحافل السرور. (الفقه على المذاهب الأربعة: ۱/٤۳٤، مبحث ذبح الذبائح، وعمل الأطعمة في المآتم، القاهرة).

احکام میت میں ہے:
ایک رسم یہ کی جاتی ہے کہ دفن کے بعد میت کے گھر والے، برادری وغیرہ کو دعوت دیتے ہیں کہ فلاں روز آ کر کھانا تناول فرمائیں، یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دعوت اور اس کا قبول کرنا دونوں ممنوع ہیں، ہرگز جائز نہیں اس قبیح رسم سے اجتناب لازم ہے، علامہ شامی رحمه الله نے اس دعوت کے متعلق لکھا ہے: اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، اور علاوہ حنفی مذہب کے دیگر فقہی مذاہب مثلاً شافعیہ وغیرہ کا بھی اس کے ناجائز ہونے پر اتفاق بیان کیا ہے ۔ (احکام میت: ص ۱۸۸، از مولانا ڈاکٹر محمد عبد الحی صدیقی) ۔
ہاں میت کے ایصالِ ثواب کے لیے کھانا بنا کر فقراء کو بلا تعینِ ایام کے کھلا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جب کہ مندرجہ ذیل شرائط پائے جائیں:
(۱) رسم و رواج کی نیت نہ ہو محض ایصالِ ثواب کی نیت ہو ۔
(۲) ریا اور نمود و نمائش کے لیے نہ ہو ۔
(۳) تقسیمِ ترکہ کے بعد ہو، اور اگر تقسیم سے پہلے ہو تو ورثاء عاقل بالغ ہوں نیز سب کی طرف سے بطیبِ خاطر اس کی اجازت بھی ہو ۔
(٤) حلال مال سے ہونا ضروری ہے ۔
(۵) ایام کی تخصیص کے بغیر ہونا چاہیے بغیر ہونا چاہیے، ورنہ بدعت شمار ہوگی ۔ (مستفاد از فتاوی حقانیہ: ۲/٤۹) ۔
فتاوی بزازیہ میں ہے:

ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع

(الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/۸۱).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.