گزشتہ کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت قیمت لگانے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 3 #65Urdu

Question

اگر کسی شخص نے گزشتہ چند سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی، اب ادا کرنا چاہتا ہے ادا کرنا چاہتا ہے تو کس قیمت کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرے، یا کسی کے سامانِ تجارت پر رمضان میں زکوٰۃ واجب ہوئی تھی اور چار مہینے تک زکوٰۃ ادا نہیں کی، چار ماہ گزرنے کے بعد سامانِ تجارت کی قیمت بڑھ گئی تو اس صورت میں ماہِ رمضان کا اعتبار ہے یا جس وقت ادا کرتا ہے اس کا اعتبار ہے؟ جدید فقہی مباحث اور جدید فقہی مسائل کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم الاداء کا اعتبار ہے، ملاحظہ ہو جدید فقہی مباحث میں ہے:
قیمت سے ادائیگی زکوٰۃ کے سلسلہ میں کس دن کی قیمت معتبر ہے، دو قول ہے، ایک قول یہ ہے کہ مال پر جس دن سال گزرا اور اس ما ل کی زکوٰۃ واجب الاداء ہوئی، اس دن کی قیمت کا اعتبار ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ جس دن زکوٰۃ ادا کر رہا ہے اس دن کی قیمت کا اعتبار ہے، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاحبِ مال ان دونوں قولوں میں سے کس قول پر عمل کر کے اس کے مطابق زکوٰۃ ادا کرے، تو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ادائیگی زکوٰۃ کے دن کی قیمت کو معمول بہا قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ (جدید فقہی مباحث: ۷/۵٦۷، ادارۃ القران و العلوم) ۔

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر چند سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہے ادا کرنا چاہتا ہے تو یوم الوجوب یعنی جس دن سال پورا ہوا اور زکوٰۃ واجب ہوئی اس دن کا اعتبار ہے، نیز جب رمضان میں سال ختم ہوا تھا اور زکوٰۃ واجب ہوئی تھی اور چار ماہ کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہے ادا کرنا چاہتا ہے تب بھی یوم الوجوب کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرے ۔ اکثر فقہی عبارات اسی کے موافق ہیں، امام ابو حنیفہ رحمه الله کا بھی یہی قول ہے، اگر چہ بعض حضرات نے یوم الاداء والے قول کو اختیار کیا ہے، لیکن اس میں مشکلات پیش آتی ہیں، اس لیے کہ آئے دن قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے بار بار قیمت لگانے میں بھی دشواری ہے، لہذا آسانی کی وجہ سے یوم الوجوب والا قول اختیار کیا گیا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فقہی عبارات حسبِ ذیل درج ہیں:
در مختار میں ہے:

وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعاً، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه. وفي الشامي: قوله وهو الأصح: أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعاً هو الأصح فإنه ذكر في البدائع: أنه قيل: إن المعتبر عنده فيها (السوائم) يوم الوجوب وقيل يوم الأداء، وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح. (شامي: ۲/۲۸٦، باب زكاة الغنم، سعيد).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

وفي الولوالجية: يقوم يوم حال عليها الحول بالغة ما بلغت بعد أن كانت قيمتها في أول الحول مائتين ويزكي من مائتي درهم خمسة دراهم. (الفتاوى التاتارخانية: ۲/۲۳۸، زكاة عروض التجارة، إدارة القرآن).

دوسری جگہ مذکور ہے:

رجل له مائتا قفيز حنطة للتجارة حال عليها الحول وقيمتها مائتا درهم حتى وجبت عليها الزكاة، فإن أدي من عينها أدي ربع عشر عينها خمسة أقفزة حنطة وإن أدي من قيمتها ربع عشر القيمة أدي خمسة دراهم، فإن لم يؤد حتى تغير سعر الحنطة إلى زيادة وصارت تساوي أربعمائة فإن أدي من عين الحنطة أدي ربع العشر خمسة أقفزة بالاتفاق، وإن أدي من القيمة أدي خمسة دراهم قيمتها يوم حولان الحول الذي يوم الوجوب عند أبي حنيفة رحمه الله وعندهما يؤدي عشرة دراهم قيمتها يوم الأداء. (الفتاوى التاتارخانية: ۲/۲٤۱، زكاة عروض التجارة، إدارة القرآن).

نیز مذکور ہے:

ولو كانت له جارية للتجارة قيمتها مائتا درهم فزادت في عينها بعد الحول حتى صارت أربعمائة لا يجب في الزيادة شيء

.. ولو زاد سعرها بعد الحول فصار أربعمائة فعند أبي حنيفة رحمه الله تعتبر قيمتها يوم تمام الحول لا يجب إلا خمسة دراهم. (الفتاوى التاتارخانية: ۲/۲٤٤، زكاة عروض التجارة).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإن أدي القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۸۰، الفصل الثاني في العروض).

احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: سونے کی زکوٰۃ میں کس وقت کی قیمت معتبر ہوگی؟ آیا وقتِ وجوب کی قیمت معتبر ہے یا وقتِ ادا کی؟
الجواب: سونے چاندی کی زکوٰۃ اور عشر میں وقتِ وجوب کی قیمت معتبر ہے، البتہ زکوٰۃ سوائم میں وقتِ ادا کی قیمت کا اعتبار ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲٦۸) ۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سونا جو سو روپے فی تولہ خریدا گیا ہو اور اب آٹھ سو روپے فی تولہ ہے تو زکوٰۃ کس شرح پر ادا کی جائے گی؟
الجواب: حولانِ حول کے وقت جو نرخ ہو وہ معتبر ہوگا ۔ (فتاوی فریدیہ: ۳/٤۱٤، باب الزکوٰۃ فی الاموال) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.