فیکٹری، مل، مشین، گاڑی، وغیرہ پر زکوٰۃ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #70Urdu

Question

اگر کسی کی ملکیت میں فیکٹری، مل، مشین، گاڑی، وغیرہ اشیاء موجود ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں فیکٹری، مل، مشین، گاڑی، وغیرہ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، ہاں اگر ان اشیاء کی تجارت کرتا ہے تو ان کی مالیت پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

وليس في دور السكني وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية وليست بنامية وعلى هذا كتب العلم لأهلها وآلات المحترفين لما قلنا. (الهداية: ۱/۱۸٦، كتاب الزكاة).

جواہر الفقہ میں ہے:
کارخانے اور مل وغیرہ کی مشینوں پر زکوٰۃ فرض نہیں، لیکن ان میں جومال تیار ہوتا ہے اس پر زکوٰۃ فرض ہے ۔ (جواہر الفقہ: ۱/۳۸۵، مسائلِ زکوٰۃ، دار العلوم کراچی) ۔
فتاوی دار العلوم میں ہے:
آلاتِ محترفین پر زکوٰۃ نہیں ہے، جیسا کہ در مختار میں ہے،
وكذلك آلات المحترفين
۔ (فتاوی دار العلوم: ٦/۹۳، و امداد الفتاوی: ۲/٤۲، و ایضاح المسائل: ۱۰٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.