گورنمنٹ کی طرف سے ایک سکیم

· 4 Dhuʻl-Qiʻdah 1439 AH1 min readUrdu

Question

گورنمنٹ کی طرف سے ایک سکیم چلی ہے جس کا نام نیشنل رو لر سپورٹ پروگرام ہے, اس سکیم کے اندر غریب عورتوں کو قرضہ دیا جاتا ہے اور قسطوں کے ساتھ سود لگاکر واپس کیا جاتا ہے. اور میرا اپنا ذاتی ایزی پیسہ کا کام ہے لوگ میرے پاس آ جاتے ہیں کہ یہ بل ایزی پیسہ سے پیڈ کر دو . تو میں پیڈ کردیتا ہو ‏ن. اور ٹیلی نار کی کمپنی اس پر ہمیں 5روپے فی قسط کمیشن دیتی ہے. بالکل اسی طرح جس طرح بجلی کے بل پر دیتی ہے. میرا یہ کام شرعی اعتبار سے جائزہےیا ناجائز. مہربانی فرما کر میری رہنمائی فرمائیں.. آپکی عین نوازش ہوگی...

Answer

Jaaiz nahi.

And Allah Ta'ala (الله تعالى) knows best.

Answered by
Mufti Ebrahim Salejee (Isipingo Beach)
Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Mufti Online — Madrasah Ta'leemuddeen. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.