سفیر سے مدرسہ کی زکوٰۃ کی رقم چوری ہو گئی تو زکوٰۃ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #119Urdu

Question

کسی نے مدرسہ کے سفیر کو زکوٰۃ کی رقم دے دی وہ رقم اس سفیر سے گم ہو گئی یا چوری ہو گئی اب دو باتیں دریافت طلب ہیں (۱) زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟ (۲) سفیر ضامن ہوگا یا نہیں؟

Answer

(۱) اکابر رحمه الله کا اتفاق ہے کہ سفیر مدرسہ کے نادار طلباء کا وکیل ہے اور وکیل کا قبضہ مؤکل کے قبضہ کے برابر ہے اس اعتبار سے زکوٰۃ ادا ہو گئی ۔
(۲) سفیر وکیل اور امین ہے لہذا حفاظت کا اچھی طرح انتظام کیا تھا پھر بھی گم ہو گئی یا چوری ہو گئی توتاوان نہیں آئے گا، لیکن اگر کوتاہی کی ہے تو تاوان آئے گا ۔
ملاحظہ ہو ایضاح المسائل میں ہے:
اگر مدارس کے سفراء کے ہاتھ سے زکوٰۃ کی رقم چوری ہو جائے یا مہتمم کے ہاتھ سے چوری یا ضائع ہو جائے اور ان کی حفاظت میں کوئی کمی نہیں رہی ہے تو ان لوگوں پر تاوان لازم نہ ہوگا، اور مالک کی زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی، اس لئے کہ یہ لوگ عملاً و عرفاً فقیر طلبہ کے وکیل ہیں اور وکیل کا قبضہ گویا فقیر کا قبضہ ہے ۔
اور اگر ان لوگوں نے حفاظت میں کوتاہی کی ہے یا زکوٰۃ کی رقم میں تبدیلی کی ہے یا اپنی رقم کے ساتھ مخلوط کر دیا ہے تو ان لوگوں پر تاوان واجب ہوگا، اور اپنی جیب سے اتنی رقم فقراء کو دینا لازم ہوگا ۔ (ایضاح المسائل: ص۱۲۰، نعیمیہ) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
مہتممِ مدرسہ اگر طلبا کا وکیل ہے تو اس کا قبضہ طلبا ہی کا قبضہ ہے، لہذا زکوٰۃ ادا ہو گئی، کسی پر ضمان لازم نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۵۱۳، مبوب و مرتب) ۔
امداد المفتین میں ہے:
مہتممینِ مدرسہ اور ان کے مقرر کردہ چندہ وصول کرنے والے عاملین صدقہ کے حکم میں داخل ہو کر فقراء کے وکیل ہیں، معطینِ چندہ کی وکالت صرف اس درجہ میں ہے کہ انہوں نے ان حضرات کو وکیل تسلیم کر کے اپنا چندہ ان کے حوالہ کر دیا تو جب بحیثیتِ وکیل فقراء رقم ان کے قبضہ میں چلی گئی تو وہ فقراء کی ملک ہو گئی، اور زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہو گئی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله نے بھی ایک سوال کے جواب میں فرمایا: یہ طلباء و فقراء مجہول الکمیت و الذات ہیں اس کے باوجود ان کی وکالت مہتممانِ مدرسہ کے لئے عرفی طور پر ثابت ہو گئی اور ان کا قبضہ فقراء کا قبضہ ہو گیا ۔ (امداد المفتین: جلد دوم: ۱۰۸۵، اختیار الصواب، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی خلیلیہ: جلد اول: ۱۵٤، باب المصرف، مکتبۃ الشیخ ۔ و جدید فقہی مسائل: ۱/۲۲٦، نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.