مسجد و مدرسہ کی جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #51Urdu

Question

کیا مدرسہ یا مسجد کی جمع شدہ رقم بقدرِ نصاب ہو تو اس میں زکوٰۃ لازم ہے؟

Answer

مدرسہ یا مسجد کی جمع شدہ رقم اگر چہ بقدرِ نصاب ہو، اس میں زکوٰۃ لازم نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو رد المحتار میں ہے:

وسببه ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد: سواء كان ﷲ كزكاة وخراج، وقال بن عابدين رحمه الله قوله كزكاة: فلو كان له نصاب حال عليه حولان فلم يزكه فيهما لا زكاة عليه في الحول الثاني. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۵۹، كتاب الزكاة، سعيد).

جدید فقہی مسائل میں ہے:
جس مال کا کوئی متعین مالک نہ ہو بلکہ مسجد یا مدرسہ یا اور کوئی ادارے اس کے مالک ہوں ان میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ملک العلماء علامہ کا سانی رحمه الله کا بیان ہے:

ولا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا لأن في الزكاة تمليكاً والتمليك في غير الملك لا يتصور. (
جدید فقہی مسائل: ۲/۵۰)۔
جدید فقہی مباحث میں ہے:
مدارسِ اسلامیہ اور مساجد اور دیگر قومی اور رفاہی فنڈ بیت المال وغیرہ شخص حقیقی نہیں ہے بلکہ یہ سب اشیاء اشخاص حکمی میں شامل ہیں اور اسلامی شریعت نے زکوٰۃ کا فریضہ شخص حقیقی کی ملکیت تامہ پر واجب کیا ہے اور شخص حکمی کی ملکیت پر واجب نہیں کیا ہے اس لئے مساجد، مدارس، قومی فنڈ اور بیت المال وغیرہ کی ملکیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا لأن في الزكاة تمليكاً والتمليك في غير الملك لا يتصور. بدائع: ۲/۹، شامي: ۲/۲۵۹. (
جدید فقہی مباحث: ٦/ ۲۸۵، ادارۃ القران و العلوم الاسلامیہ)۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
مسجد مدرسہ کے چندہ کا روپیہ جو بقدرِ نصاب جمع ہو جاتا ہے اور سال اس پر گذر جاتا ہے اس میں زکوۃ نہیں مہتمم مسجد و مدرسہ کے پاس جو رقم مسجد یا مدرسہ کی جمع رہتی ہے اس میں زکوۃ فرض نہیں ہے۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/٤۹)۔
کفایت المفتی میں ہے:
محلہ کا وہ روپیہ جو جماعت یا کمیٹی کا مشترک روپیہ ہو اور لوگوں کے کام آنے کے لئے جمع کیا یا مسجد کا روپیہ ہو اس پر زکوۃ نہیں ہے۔ (کفایت المفتی: ٤/۲۵۰)۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
مسجد یا مدرسہ کے پاس جب رقم بقدرِ نصاب ہو تو اس میں زکوۃ نہیں ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۳۲۷، جامعہ فاروقیہ)
مزید ملاحظہ ہو: جدید فقہی مباحث: ۷/۷۳۵، ادارۃ القران و العلوم الاسلامیہ، کتاب الفتاوی تیسرا حصہ: ص ۲٦۷، اہم فقہی فیصلے: ۵۵، ادارۃ القرآن کراچی۔ و ایضاح النوادر حصۂ دوم: ۲۳۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.