وکیل کا زکوٰۃ کی رقم میں تبدیلی کرنے سے ادائیگی کا حکم:
Question
مجھے ایک صاحب نے ایک ہزار رینڈ دے کر وکیل بنایا کہ میں ہندوستان میں فلاں کو اس کی زکوٰۃ پہنچا دوں، میں نے بذریعہ حوالہ دوسری رقوم کے ساتھ یہ رقم بھی پہنچا دی وہاں میرے نمائندے نے دوسری
رقم میں سے زکوٰۃ ادا کر دی تو زکوٰۃ ادا ہوئی یا نہیں؟
Answer
وکیل کے پاس جب تک زکوٰۃ کی رقم موجود ہے اور دوسری رقم سے زکوٰۃ ادا کر دی تو ادا ہو جائے گی، لیکن اگر زکوٰۃ کی اصل رقم خرچ کر دی پھر دوسری رقم سے ادا کرتا ہے تو زکوٰۃ ادا نہ ہو گی، چونکہ صورتِ مسئولہ میں اصل رقم موجود تھی لہذا زکوٰۃ ادا ہو گئی، نیز رینڈ ہندوستان میں نہیں چلتے اس وجہ سے یہاں زکوٰۃ پہنچانے کا مطلب اس کو تبدیل کر کے پہنچانا ہے اس لیے زکوٰۃ ادا ہو گئی، کیوں کہ تبدیل کرنے کی اجازت ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ولو تصدق بدراهم نفسه أجزأ إن كان على نية الرجوع وكانت دراهم المؤكل قائمة
وفي الشامي: أي الوكيل بدفع الزكاة إذا أمسك دراهم المؤكل ودفع من ماله ليرجع ببدلها في دراهم المؤكل صح، بخلاف ما إذا أنفقها أولاً على نفسه ثم دفع من ماله فهو متبرع. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲٦۹، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
زکوٰۃ بہرحال ادا ہو جائے گی، البتہ تبدیل کا جواز اس پر موقوف ہے کہ مؤکل کی طرف سے تبدیل کا اذن صراحۃً یا دلالۃً موجود ہو، موجود عرف میں اس کی اجازت ہے اس لئے صراحۃً اذن کی ضرورت نہیں، مع ہذا صراحۃً اجازت لے لینا بہتر ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۹۰) ۔
بہشتی زیور میں ہے:
کسی غریب کو دینے کے لئے تم نے دو روپے کسی کو دیے لیکن اس نے بعینہ وہی دو روپے فقیر کو نہیں دیے بلکہ اپنے پاس سے دے دیے تو زکوٰۃ ادا ہو گئی، بشرطیکہ تمہارے روپے اس کے پاس موجود ہوں، البتہ اگر تمہارے روپے اس نے خرچ کر ڈالے اس کے بعد اپنے روپے غریب کو دیے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی ۔ (بہشتی زیور: زکوٰۃ کے ادا کرنے کا بیان: ۲٤۵، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1023
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1023