زکوٰۃ کی رقم سے فقیر کا قرض بذریعہ وکیل ادا کرانے کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص کثرتِ قرض کی وجہ سے زکوٰۃ کا مستحق ہے، اور اگر اس کو زکوٰۃ دی جائے تو ضائع کر دے گا، لہذا یہ شخص کسی کو وکیل بنا سکتا ہے تاکہ اس کی طرف سے قرض ادا کر دے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں فقیر اگر اپنا وکیل مقرر کرے اور وکیل زکوٰۃ کی رقم لے کر فقیر کی طرف سے قرضہ ادا کر دے تو یہ جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ۔ اور اگر کسی کو وکیل نہیں بنایا صرف اجازت دی تو پھر بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، گویا دائن نے فقیر کے لیے قبضہ کر کے اپنی جیب میں رقم ڈال دی ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
ولو قضي دين حي فقير إن قضي بغير أمره لم يجز لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير لأنه لما أمره به صار وكيلاً عنه في القبض فصار كان الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم
۔
(بدائع الصنائع: ۲/۳۹، ركن الزكاة، سعيد)
۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولو قضي دين الفقير بزكاة ماله إن كان بأمره يجوز وإن كان بغير أمره لا يجوز
۔
(الفتاوى الهندية: ۱/۱۹۰، الباب السابع في المصارف، وكذا في الشامي: ۲/۳٤۵، سعيد)
۔
احسن الفتاوی میں ہے:
مسکین کی اجازت سے اس کا قرض مد زکوٰۃ سے ادا کیا جائے تو جائز ہے، مسکین کو مد زکوٰۃ کا بتانا ضروری نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۵۰) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
اگر کوئی شخص بہت زیادہ مقروض ہے اور قرض ادا کرنے کے لئے اگر اس کو زکوٰۃ کی رقم دینے میں یہ خطرہ کہ خود کھا جائے گا اور قرض ادا نہیں کرے گا تو مقروض فقیر سے اس کا قرض ادا کرنے کی اجازت لے کر مالدار آدمی اپنی زکوٰۃ کی رقم سے قرضدار فقیر کا قرض ادا کرے گا تو فقیر کا قرض اور مالدار کی زکوٰۃ دونوں ادا ہو جائیں گے ۔ (ایضاح المسائل: ص ۱۱۳، نعیمیہ) ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1031
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1031