زکوٰۃ کی رقم سے غریب طلبہ کی فیس ادا کرنے کا حکم:
Question
ہمارے مدرسہ کے طلبہ غریب ہیں جو فیس وغیرہ ادا نہیں کر سکتے ہیں، تو کیا ان کی فیس زکوٰۃ کی رقم سے ادا کی جا سکتی ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں طلبہ غریب اور مستحق زکوٰۃ ہونے کی وجہ سے ان کی فیس زکوٰۃ کی رقم سے ادا کرنا جائز ہے ۔
اور اس کی صورت یہ ہے کہ غریب نادار طالبِ علم کو کچھ رقم بطورِ وظیفہ دے دی جائے پھر اس میں سے بطورِ فیس وصول کر لیا جائے، تمام رقم وصول نہ کریں بلکہ کچھ جیب خرچ کے لئے چھوڑ دے، پھر جو فیس وصول ہوئی وہ مدرسہ اپنے کاموں میں استعمال کر لیا کرے ۔
ملاحظہ ہو قرآن کریم میں ہے:
﴿إنما الصدقات للفقراء والمساكين
﴾. الآية.
حدیث شریف میں ہے:
تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم. (رواه الترمذي: ۱/۱۳٦، باب ما جاء في كراهية أخذ خيار المال في الصدقة).
البحر الرائق میں ہے:
هي تمليك المال من فقير
وقيد بالتمليك احترازاً عن الإباحة ولهذا ذكر الولوالجي وغيره أنه لو عال يتيماً فجعل يكسوه ويطعمه وجعله من زكاة ماله فالكسوة تجوز لوجود ركنه وهو التمليك وأما الإطعام إن دفع الطعام إليه بيده يجوز أيضاً لهذه العلة وإن كان لم يدفع إليه ويأكل اليتيم لم يجز لانعدام الركن وهو التمليك ولم يشترط قبض الفقير لأن التمليك في التبرعات لا يحصل إلا به
ولم يشترط البلوغ والعقل لأنهما ليسا بشرط لأن تمليك الصبي صحيح لكن إن لم عاقلاً فإنه يقبض عنه وصيه
. وإن كان عاقلاً فقبض من ذكر وكذا قبضه بنفسه والمراد أن يعقل القبض بأن لا يرمي به ولا يخدع عنه. (البحر الرائق: ۲/۲۰۱، كتاب الزكاة، كوئته).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
نادار طالبِ علم کو زکوٰۃ کا پیسہ یا مد زکوٰۃ سے قاعدہ پارہ تملیکاً دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، جب کہ وہ طالبِ علم سمجھدار ہو، اور مالکانہ قبضہ کی اہلیت رکھتا ہو، بالکل چھوٹا نا سمجھ نہ ہو ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۵٤۸، مبوب و مرتب) ۔
مزید ملاحظہ ہو: ایضاح النوادر: حصہ دوم ص ٤۸، مد زکوٰۃ سے طلبہ کی فیس ادا کرنا ادا کرنا، نعیمیہ، و جدید فقہی مسائل: ۱/۲۲۵ ۔ ،
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1036
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1036