زکوٰۃ کی رقم حیلۂ تملیک کے بعد مدرسہ کی دیگر ضروریات میں خرچ کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #141Urdu

Question

ہمارے مدرسہ کی آمدنی زیادہ تر زکوٰۃ ہوتی ہے، اور مدرسہ میں مالدار اور نادار دونوں قسم کے طلبہ پڑھتے ہیں، نیز مدرسہ کو (Braille, Books) نابینا لوگوں کا رسم الخط اور ٹیپ کی ضرورت ہے، مزید برآں بیرونی ملکوں کے نابینا لوگ ہماری خدمات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم کس طرح زیادہ سے زیادہ نابینا لوگوں کی خدمت کر سکیں، لہذا کوئی جائز حیلہ بتائیں کہ ہم زکوٰۃ کی رقم کو للہ میں تبدیل کر کے اس کو مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کریں؟

Answer

زکوٰۃ کو للہ میں تبدیل کرنے کا حیلہ بغیر ضرورتِ شدید ہ کے جائز نہیں ہے، اگر زکوٰۃ میں ہم حیلے کرتے رہیں گے تو زکوٰۃ کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا، ہاں بغیر تدبیر اور حیلہ کے مدرسہ چلانے کے لئے ایک کام کر سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ طلبہ پر فیس مقرر کریں اور غریب طلبہ کو زکوٰۃ کی رقم مثلاً ۵۰۰، دے دیں پھر مدرسہ چلانے اور کھانے اور تعلیم وغیرہ کے لئے ان سے مثلاً ٤۰۰، رینڈ وصول کر لیں ایک صاحب دے دیں اور دوسرا یا وہی دوسری جگہ وصول کر لیں ۔ پھر وصول شدہ رقم ٹیپ وغیرہ کسی بھی کام میں خرچ کر سکتے ہیں، ہاں باہر کے لوگوں کو نہیں دے سکتے کیوں کہ مدرسہ کا مال مدرسہ ہی میں خرچ ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.