صدقۂ فطر میں غیر منصوص اشیاء دینے کا حکم:
Question
صدقۂ فطر میں کپڑے سلا کر غریب بچوں کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز اس کے علاوہ غیر منصوص اشیاء دینے کا کیا حکم ہے؟
Answer
اشیاءِ منصوصہ کی قیمت لگا کر اس رقم سے غیر منصوص اشیاء خرید کر دینا جائز اور درست ہے، نیز غریب بچوں کو کپڑے سلا کر دینا بھی درست ہے صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وما لم ينص عليه كذرة وخبز يعتبر فيه القيمة. (الدر المختار: ۲/۳٦٤، باب صدقة الفطر، سعيد).
البحر الرائق میں ہے:
أن الصحيح في الخبز أنه لا يجوز إلا باعتبار القيمة لعدم ورود النص به فكان كالزكاة وكالذرة وغيرها من الحبوب التي لم ترد بها النص. (البحر الرائق: ۲/۲۵٤، باب صدقة الفطر، كوئته).
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما الأقط فتعتبر فيه القيمة لا يجزئ إلا باعتبار القيمة
لأنه غير منصوص عليه من وجه يوثق به وجواز ما ليس بمنصوص عليه لا يكون إلا باعتبار القيمة كسائر الأعيان التي لم يقع التنصيص عليها من النبي ﷺ. (بدائع الصنائع: ۲/۷۲، بيان جنس الواجب، سعيد).
کفایت المفتی میں ہے:
غیر منصوص اشیاء میں حکم یہ ہے کہ صاع یا نصف صاع جائز نہیں بلکہ نصف صاع گیہوں کی قیمت میں جس قدر چاول آتے ہوں اس قدر دینے ہوں گے ۔ (کفایت المفتی: ٤/۳۱۲، دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر غیر منصوص سے کوئی شخص ادا کرنا چاہے ادا کرنا چاہے تو منصوص کی قیمت لگا کر دراہم یا دنانیر دے دے، یا اتنی قیمت کی کوئی اور شئے ثوب وغیرہ دے دے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٦۳۱، مبوب و مرتب ۔ و کذا فی کتاب الفتاوی: ۳/۳٦۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1056
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1056