صدقۂ فطر کی رقم سے کھانا پکوا کر کھلانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #162Urdu

Question

اگر صدقۂ فطر کی رقم جمع کر کے اس کا کھانا پکوا کر جیل میں قیدیوں کو عید کے دن ایک جگہ بٹھا کر کھلا دے تو صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا یا نہیں؟

Answer

صدقۂ فطر میں زکوٰۃ کی طرح تملیک ضروری ہے اور ایک جگہ بٹھا کر کھلانے میں تملیک نہیں پائی جاتی بلکہ یہ اباحت ہے، اس لیے کہ ان کو اپنی مرضی کے مطابق اس میں تصرف کا حق حاصل نہیں، لہذا صدقۂ فطر ادا نہیں ہوگا، ہاں ہر ایک کے برتن میں تملیکاً دے دیا جائے، تو صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا، نیز جیل میں بعض قیدی صاحبِ نصاب بھی ہوتے ہیں، ان کو دینے سے بھی ادا نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

وأما ركنها فهو نفس الأداء إلى المصرف فهي التمليك كالزكاة فلا تتأدى بطعام الإباحة. (البحر الرائق: ۲/۲۵۲، باب صدقة الفطر، كوئته).

شامی میں ہے:

واشتراط التمليك فلا تكفي الإباحة كما في البدائع هذا ما ظهر لي، تأمل. (شامي: ۲/۳٦۹، باب صدقة الفطر، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
زکوٰۃ کا کھانا مستحق کو بطورِ تملیک دینا لازم ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہو کہ اتنی مقدار میری ملک ہے خواہ میں کھاؤں یا فروخت کروں یا کسی کو کھلاؤں اور ایک ساتھ سب کو بٹھا کر کھلانے میں یہ بات نہیں ہوتی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٦۰۲، مبوب و مرتب) ۔
عمدۃ الفقہ میں ہے:
صدقۃ الفطر کا رکن اس کے مصرف کو دے دینا ہے پس یہ دینا بھی تملیک کے طور پر ہونا چاہیے طور پر ہونا چاہیے جیسا کہ زکوٰۃ میں ہے پس طعامِ اباحت (یعنی مباح کر دینے) سے ادا نہیں ہوگا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۱٦۸، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.