ٹیلیفون کی خبر سے ثبوتِ ہلال کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #167Urdu

Question

ٹیلیفون کی خبر سے رؤیت ہلال کا ثبوت ہو سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

ٹیلیفون میں بولنے والا جانا پہچانا آدمی ہے اور اس میں کوئی اشتباہ بھی نہیں ہے اور اس کی سچائی کا ظن غالب ہے اور اپنے یہاں رؤیت کا شرعی فیصلہ ہونے کی خبر دے رہا ہے تو اس کو معتبر مان کر شخصی طور پر عمل کرنا جائز ہے، واجب نہیں، اور اگر ہر طرف سے ٹیلیفون کے ذریعہ متواتر خبریں آئیں اور کثیر تعداد میں لوگ خبریں دیں اور استفاضہ کی حد تک پہنچ جائے تو اس کو شرعی شہادت کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے، اور اس پر عمل کرنا لازم ہو جاتا ہے ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
اگر مطلع صاف ہو خواہ مسئلہ عید کے چاند کا ہو یا رمضان کا، رؤیت ثابت ہونے کے لیے خبر مستفیض یعنی اتنے لوگوں کی خبر مطلوب ہے کہ عادۃً ان کا جھوٹ پر متفق ہو جانا ناقابل تصور ہو، اگر مطلع ابر آلودہ ہو، اور مسئلہ رمضان کے چاند کا ہو تو ایک معتبر آدمی کی خبر چاند کے ثبوت کے لیے کافی ہے، گویا ان دونوں صورتوں میں چاند ثابت ہونے کا مدار خبر پر ہے، لہذا ٹیلیفون پر خبر دی جائے اور اطمینان ہو جائے کہ خبر دہندہ اپنا جو تعارف کر رہا ہے، وہ صحیح ہے، اور یہ شخص معتبر ہے تو ٹیلیفون کی ایسی خبروں کو قبول کیا جا سکتا ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۳/۳۷٦) ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: احسن الفتاوی: ٤/٤۰۷ ۔ ٤۱۲ ۔ فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۸۷ ۔ جدید فقہی مسائل: ۲/۲۱ ۔ کفایت المفتی: ٤/۲۱٦ ۔ نظام الفتاوی: ۲/۱٦۳ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.