دوسرے دن چاند نہ نظر آنے پر شہادت کا حکم:
Question
اگر آج چاند کی گواہی دی گئی اور کل بھی جانب مغرب میں چاند نظر نہیں آیا، حالانکہ آسمان صاف تھا تو کیا کل کی گواہی خلافِ ظاہر ہو کر مردود ہوئی یا نہیں؟ یا دوسرے دن مطلع صاف ہونے کے باوجود رؤیتِ عام نہیں ہوئی ۔
Answer
یہ مسئلہ عربی کتب و فتاوی میں نہیں ملا، البتہ فتاوی واحدی میں لکھا ہے کہ اگر دوسرے دن چاند نظر نہیں آیا تو پھر بھی سابقہ فیصلہ درست ہے، لیکن فتاوی واحدی نے پرانی کتابوں میں سے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا، لہذا ان کا یہ فتویٰ خلافِ ظاہر ہے، اور آج کل لوگوں کی خلافِ ظاہر گواہی کو دیکھتے ہوے یہ فتویٰ دینا چاہیے کہ سابقہ عید یا روزہ درست نہیں تھا، اور گواہوں کو تعزیری سزا دینا چاہیے ۔
فتاوی واحدی کی عبارت درج ذیل ہے:
سؤال: ما قولهم:
اندر آنچہ ہلال فطر را گواہاں در دیہی دیدند قاضی قسم دادہ حکم بدان نمود وشب دویم در دیہ ودیگر بعضے مردم بسیار نظر بستند ندیدند دراں صورت حکم ماضی نافذاست یا نہ وکذب شہود رؤیت ظاہر شد ونہ وگواہی ندیدن مقبول است یا نہ؟
جواب: الظاهر أن حكم القاضي نافذ وإن لم يروا الهلال في الليلة الثانية، كما يستفاد من جواهر الفتاوى حيث قال: قاضٍ شهد عنده شاهدان برؤية هلال رمضان وقضي به ثم أتموا ثلاثين يوماً ولم يروا هلال العيد والسماء مصحية فإنهم يفطرون لانهم عقدوا ثلاثين يوماً كما أمروا به ولا يظهر بذلك كذب الشهود لأن قولهما وإن كان متحملاً فقد صار حجة لاتصال القضاء به، انتهى، وكما لا يظهر كذب الشهود في الصورة المذكورة لاتصال القضاء بالشهادة فكذلك فيما نحن فيه كما لا يخفي على أن الأصل قبول شهادة الإثبات دون النفي. (فتاوى واحدي: للعلامة عبد الواحد سيوستاني سندهي رحمه الله، جلد اول ص ۳۳١).
نیز جب آسمان صاف ہو اور دو تین آدمی گواہی دیں تو اس کو خلاف ظاہر ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا جاتا تو جب پہلے دن رؤیت کے بعد دوسرے دن صاف آسمان میں رؤیت نہیں ہوئی یہ تو بہت ہی خلاف ظاہر ہے لہذا دوسرے دن رؤیت نہ ہو تو سابقہ شہادت کو کالعدم قرار دینا چاہیے، اس لیے کہ کتب فقہ میں یہ مسئلہ مرقوم ہے کہ کسی چیز پر گواہی دی جائے اور ظاہر میں یقینی طور پر اس کی مخالفت ثابت ہو جائے تو وہ گواہی کالعدم سمجھی جائے گی ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وإذا تنازعا في دابة وأقام كل واحد منهما بينة أنها نتجت عنده وذكراً تاريخاً وسن الدابة يوافق أحد التاريخين فهو أولى، لأن الحال تشهد له فيترجح
وإن خالفت سن الدابة الوقتين بطلت البينتان، كذا ذكره الحافظ الشهيد، لأنه ظهر كذب الفريقين فتترك في يد من كانت في يده. (الهداية: ۳/۲۲٤).
خلاصہ یہ ہے کہ ظاہر میں بینہ کی مخالفت ثابت ہو جائے تو بینہ خود باطل ہے یعنی ان کی گواہی مردود ہے ۔
فتح القدیر میں ہے:
بطلت البينتان، كذا ذكره الحاكم لأنه ظهر كذب الفريقين وذلك مانع عن قبول الشهادة حالة الانفراد فيمنع حالة الاجتماع أيضاً. (فتح القدير: ۸/۲۷۹، دار الفكر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1068
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1068