اختلافِ مطالع کے بارے میں چند سوالات:
Question
کیا فرماتے ہیں بزرگانِ دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں :
آج کل رؤیتِ ہلال کے بارے میں بہت چرچہ ہو رہا ہے اور لوگ طرح طرح کی چہ می گوئیاں کر رہے ہیں، اس کی اصل کیا ہے، برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں اور اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔
(۱) اگر ایک شہر والوں نے چاند دیکھا تو کتنے شہر والوں پر ان کی اطاعت کرنا ضروری ہوگا؟ اور رقبۂ رؤیتِ ہلال کیا ہے؟ اور مطلع کا اعتبار کتنے کیلو میٹر تک کیا جائے گا؟
(۲) اس ملک میں پڑوسی ممالک میں سے کن کن ممالک کی رؤیت کا اعتبار ہوگا؟ اور جوہانسبرگ، کیپ ٹاؤن کا مطلع ایک ہے یا الگ الگ؟
(۳) ہم مدینہ منورہ کی رؤیت کا اعتبار کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟
Answer
مذہبِ احناف میں ظاہر الروایت کے مطابق مشرق کی گواہی مغرب کے لیے کافی ہے جب صحیح طریقہ سے پہونچے یا شہرت و استفادہ کی تعریف میں داخل ہو، جو حضرات اختلافِ مطالع میں کیلو میٹر کا حساب کرتے ہیں ان کے اقوال میں تضاد ہونے کے علاوہ وہ قاعدہ کلیہ کے ذیل میں نہیں آتا، بلکہ اکثر تخمینہ پر مبنی ہے، لیکن محققین علماء بلادِ بعیدہ میں اختلافِ مطالع کا اعتبار کرتے ہیں، جس کی تفصیل گزر چکی ۔
(۲) اس ملک میں اگر واقعی چاند دیکھا گیا، اور احناف کے مذہب کے مطابق اس میں سقم اور خرابی نہیں تو اس کو قبول کر لینا چاہیے، نیز پڑوسی ممالک کی شہادت بھی قبول کی جائے گی ۔
(۳) سعودی عرب کی شہادت قبول نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کی شہادت اکثر خلافِ ظاہر ہوتی ہے، کیوں کہ چاند مشرق و مغرب دونوں طرف ایک دن میں دیکھا جاتا ہے، جب کہ قدیم و جدید اہل ہیئت کے نزدیک یہ نہیں ہو سکتا، نیز اور کسی جگہ رؤیت نہیں ہوتی، بلکہ بہت سی مرتبہ رؤیت کے دوسرے دن آسمان صاف ہونے کے باوجود چاند کی عام بلکہ کبھی کبھی خاص رؤیت نہیں ہوتی، نیز کبھی چاند ۵/٦ گھنٹے کا ہوتا ہے اور رؤیت کا دعویٰ ہوتا ہے، بلکہ کبھی پیدائش سے بھی پہلے رؤیت کا دعویٰ ہوتا ہے، لہذا خلافِ ظاہر شہادت کو کیسے قبول کیا جائے؟
دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں فقہ حنبلی کی روشنی میں رمضان کے لیے ایک آدمی کی شہادت اور عید وغیرہ کے لیے دو ثقہ آدمیوں کی شہادت کافی ہے، جب کہ احناف کے نزدیک آسمان صاف ہونے کی صورت میں جمع عظیم درکار ہے، لیکن اس کے باوجود اس اختلاف سے بچنا تو آسان ہے کیوں کہ جب حنبلی قاضی اس کو قبول کر کے فیصلہ کر لے تو احناف اس کو تسلیم کر سکتے ہیں، لیکن خلافِ ظاہر شہادت کو قبول کرنا بہت مشکل ہے، نیز ان کی شہادت کی تفصیلات کا علم بھی اکثر لوگوں کو نہیں ہوتا بلکہ وہاں شخصی حکومت کی وجہ سے ان چیزوں کی تفصیلات تک پہونچنا بھی دشوار بلکہ ناممکن سا ہے، یہ نہ سمجھا جائے کہ سعودی کی رؤیت ہمیشہ غلط ہوتی ہے، بہرحال علماء کے ہاں زیادہ قابل اعتماد نہیں، نیز محققین علماء حضرات بلادِ بعیدہ میں اختلافِ مطالع کے قائل ہیں ان کے نزدیک دیگر وجوہات کی بنا پر ان کی اتباع نہیں کی جاتی ۔
ان سوالات کے جوابات مرحمت فرمانے کے بعد چونکہ اس ملک میں انتشار اور افتراق کا اندیشہ تھا اور جدت پسند لوگوں کی طرف سے کچھ ایسی ہوائیں چل رہی تھیں کہ رمضان و عید وغیرہ میں سعودی کی اتباع کرنا چاہیے، جب کہ یہاں کی تینوں جمعیتیں (کیپ ٹاؤن، نٹال، اور ترانزوال) برابر خدمت میں مصروف تھیں، اور رؤیت ہلال کا متفقہ فیصلہ صادر کر رہی تھیں، لہذا اس خلجان اور انتشار کے دفعیہ کے لیے حضرت مفتی صاحب مد ظلہ نے فقہاء کے اقوال و عبارات کا جامع اور مستحکم ایک مقالہ تحریر فرمایا جس کو سپرد قرطاس کیا جاتا ہے ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1073
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1073