روپے کی نیت سے روزہ رکھنے سے سقوطِ فرض کا حکم:
Question
ایک شخص تارکِ صوم ہے ایک متقی آدمی نے اس کے ساتھ وعدہ کیا کہ آپ روزہ رکھیں میں آپ کو فی روزہ ۵۰ رینڈ ادا کروں گا اس نے روزہ رکھا، اب روزہ دار رینڈ کا مطالبہ کر رہا ہے اور متقی آدمی کہتا ہے کہ میں نے تو صرف ترغیب کے لیے کہا تھا کون حق پر ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں روزہ دار کو روزوں کا ثواب مل جائے گا اور ذمہ فارغ ہو جائے گا لیکن رینڈ کا مستحق نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
قيل لشخص صل الظهر ولك دينار، فصلى بهذه النية، ينبغي أن تجزئه ولا يستحق الدينار. وفي الشامية: قال في الأشباه: وهذه المسألة ليست منصوصة في مذهبنا وصرح به النووي رحمه الله، وقواعدنا لا تأباه. (الدر المختار مع الشامي: ۱/٤۳۸، سعيد. ومثله في الفتاوى اللكنوي: ص ۲۳۹، في باب النية).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1078
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1078