﴿أفلا يتدبرون القرآن الخ﴾ میں ایک خلجان کا جواب:
Question
آیتِ کریمہ
﴿أفلا يتدبرون القرآن ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيرا﴾ (سورة النساء الآية ۸۲)
اس میں کثیر کو نکالے تو مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کریم میں اختلافِ یسیر موجود ہے جیسا کہ تورات اور انجیل کا حال ہے محرف اور متغیر ہونے کے بعد یہود و نصاری کے پاس؟
Answer
یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جگہ ہر قید احترازی ہو بلکہ بہت سی جگہ پر قید اتفاقی ہوتی ہے مثلاً اللہ تعالی کا فرمان
﴿لا تأكلوا الربوا أضعافا مضاعفة﴾
اس کا مطلب یہ نہیں کہ قلیل جائز ہوگا بلکہ اس کا مدار عام عادت پر ہوتا ہے، نیز کبھی قید لگانے کا مقصد زیادہ قباحت کا بیان ہوتا ہے کہ یہ کتنی بُری بات ہے کہ ربا بھی لیتے ہو اور ڈبل در ڈبل بھی لیتے ہو جیسے "مسجد میں گالی دیتے ہو" ؟ یہ مطلب نہیں کہ مسجد سے باہر گالی جائز ہے بلکہ زیادہ قباحت کے لیے ہے یا
﴿لا تكرهوا فتىتكم على البغاء إن أردن تحصنا﴾
میں یعنی باندیاں پاکدامنی چاہتی ہیں پھر بھی تم باندیوں کو زنا پر مجبور کرتے ہو، کتنی قبیح بات ہے! لہذا اس آیتِ کریمہ کو بھی اس پر قیاس کرو یعنی یہ مطلب نہیں کہ اختلافِ یسیر موجود ہے مطلب صرف یہ ہے کہ اگر غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو بہت اختلاف ہوتا اور نظام درہم برہم ہوتا اس کی آسان مثال ہمارے محاورے سے سمجھنا چاہیے مثلاً کسی رئیس کا لڑکا بیوقوف ہے اور تجربہ کا ر نہیں ہے کھرے کھوٹے کو پرکھنے کی اہلیت نہیں تو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر باپ کے بعد بیٹا رئیس بنے تو ملک میں بہت زیادہ فساد آ جائے گا، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ فی الحال بھی تھوڑا فساد ہے بلکہ صرف مطلب یہ ہے کہ بعد کی خبر دیتا ہے کہ لڑکا والی ہوگا تو بہت زیادہ فساد بر پا ہوگا فی الحال سے قطع نظر کرتے ہوے، نیز اس کا یہ مطلب بھی بنتا ہے کہ اگر قرآن کسی اور کی طرف سے ہوتا اور اللہ تعالی کی طرف سے نہ ہوتا ۔ تو عادتِ الٰہیہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے کلام میں جو جھوٹا مدعی نبوت ہو بہت سارے تضادات و متعارضات ہوتے ہیں جیسے غلام احمد قادیانی کا کلام تعارضات سے بھرا ہوا ہے ۔ نیز اگر قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا اور آئندہ کی خبریں سناتا تو عالم الغیب نہ ہونے کی وجہ سے انکی پیشین گوئی واقعہ سے مختلف ہوتی تو اختلاف کثیر کا ذکر بیا ن واقعہ کے طور پر ہے یہ کوئی قید احترازی نہیں ہے ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/113
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-113