صفا مروہ کی توسیع کے بعد سعی کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #255Urdu

Question

آج کل صفا مروہ کی عرضاً بہت توسیع ہو رہی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ توسیع والی جگہ اصل مسعی سے ہٹی ہوئی ہے اس لیے توسیع کے بعد مسعی محل تأمل ہے، تو یہ بات درست ہے یا نہیں؟

Answer

اولاً یہ معلوم ہونا چاہیے ہونا چاہیے کہ صفا اور مروہ دو پہاڑوں کے نام ہیں، اور پہاڑ طویل اور عریض ہوتا ہے لہذا توسیع کے بعد بھی مسعی میں کوئی خلل نہیں ہوگا، بلکہ کسی زمانہ میں تو ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مکانات تھے اور لوگ مکانات سے باہر کی طرف سعی کرتے تھے ۔
لسان العرب میں ہے:

الصفا: العريض من الحجارة الأملس جمع صفاة يكتب بالألف

ومنه الصفا والمروة وهما جبلان بين بطحاء مكة والمسجد

الصفا اسم أحد جبلي المسعي والصفا موضع بمكة. (لسان العرب: ۷/۳۷۱).

یادر ہے کہ جبل لمبے چوڑے پہاڑ کو کہتے ہیں ۔
لسان العرب میں ہے: "
الجبل اسم لكل وتد من أوتاد الأرض إذا عظم وطال. (لسان العرب تحت مادة الجبل: ۱۱/۹٦).

چھوٹے کو جبل نہیں کہتے، جب صفا مروہ لمبے چوڑے پہاڑ ہیں تو مسعی بھی چوڑا ہوگا ۔
نیز مذکور ہے:

المرو

واحدتها مروة

ومروة المسعي التي تذكر مع الصفا وهي أحد رأسيه الذين ينتهي السعي إليها سميت بذلك

والمروة جبل مكة شرفها الله تعالى في التنزيل العزيز ﴿إن الصفا والمروة من شعائر الله﴾. (لسان العرب: ۱۳/۸۹).

نیز ملاحظہ ہو:
المعجم الوسيط: ۸٦۵. والمنجد في الأعلام: ۳٤۵. ومعجم البلدان: ۳/٤۱۱. وعمدة القاري: ۷/۲۲۸. والجامع لا حكام القرآن: ۲/۲).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
سعی کا صفا مروہ کے درمیان ہونا سعی کارکن ہے اس طرح پر کہ صفا مروہ کی اصل چوڑائی سے اِدھر اُدھر باہر نکل کر سعی نہ کرے، منسک الکبیر میں اس کو سعی کارکن قرار دیا ہے اور یہی صحیح ہے، پس اگر مسعی (سعی کی جگہ) سے باہر سعی کی تو جائز نہیں ہے ۔
فائدہ مہمہ: شیخ عبد الرحمن المرشدی رحمه الله نے کنز کی اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ صفا اور مروہ کے درمیانی مسافت سات سو پچاس ذراع ہے، پس اس حساب سے مکمل سعی یعنی ساتوں چکر کی مسافت پانچ ہزار دو سو ذراع (ہاتھ) ہوئی، اور شمنی میں ہے کہ صفا و مروہ کا درمیانی فاصلہ سات سو چھیاسٹھ ذراع ہے، مسعی کے عرض کے متعلق علامہ شیخ قطب الدین حنفی نے اپنی تاریخ الفاکہی سے نقل کرتے ہوے لکھا ہے کہ یہ پینتیس ذراع ہے اور جب مسعی میں آنحضرت رسول اللہ ﷺ نے سعی کی ہے وہ عریض تھا بعد ازاں اس قدیم مسعی کے عرض میں مکانات تعمیر ہو گئے، پھر خلیفہ مہدی رحمه الله نے ان مکانات کو منہدم کرا دیا اور ان میں سے بعض کو مسجد حرام میں داخل کرا دیا اور بعض کو چھوڑ دیا اس وقت مسعی کا جس قدر عرض رہ گیا اب تک وہی ہے اور آج کل اسی میں سعی کی جاتی ہے ۔ (
از منحة، ملخصاً عن حاشية المدني، وغنية، ملخصاً عن منحة).

(اب حکومتِ سعودیہ نے مسجد حرام کی توسیع کی تو مسعی کو بھی نئے سرے سے بہت خوبصورت انداز پر تعمیر کرایا ہے اور درمیان میں پارٹیشن کر کے صفا سے مروہ کا راستہ الگ اور مروہ سے صفا کا راستہ الگ کر دیا ہے تاکہ سعی کرنے والوں کو دقت نہ ہو، مؤلف رحمه الله)
(عمدۃ الفقہ: حصۂ چہارم، کتاب الحج: ۲۰۰، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.