میقات سے بغیر احرام کے تجاوز کرنے کا حکم:
Question
جنوبی افریقہ سے جو شخص حج کے ارادہ یا عمرہ کے ارادہ سے یا کسی اور وجہ سے سیدھے مکہ مکرمہ جاوے مکہ مکرمہ ہی کے ارادہ سے تو کیا جدہ میں احرام باندھ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر جدہ میں احرام باندھا تو دم واجب ہوگا یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر سیدھے مکہ مکرمہ جانا چاہے تو میقات سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے، بغیر احرام کے تجاوز کرنا گناہ ہے، اور جدہ میں احرام باندھنا درست نہیں اگر ایسا کیا تو دم واجب ہوگا اور گنہگار ہوگا ۔
ملاحظہ ہو شرحِ لباب میں ہے:
من جاوز وقته أي ميقاته الذي وصل إليه سواء كان ميقاته الموضع المعين له شرعاً أم لا غير محرم ثم أحرم أي بعد المجاوزة أو لا أي لم يحرم بعدها، فعليه العود أي فيجب عليه الرجوع إلى وقت أي إلى ميقات من المواقيت، وإن لم يعد فعليه دم، لمجاوزة الوقت، فلو أحرم آفاقي داخل الوقت أي في داخل الميقات وأهل الحرم أي أحرموا من الحل للحج
فعليهم العود إلى وقت أي ميقات شرعي لهم، لارتفاع الحرمة وسقوط الكفارة، وإن لم يعودوا فعليهم الدم والإثم لازم لهم، فإن عاد قبل شروعه في طواف أو وقوف سقط الدم. (اللباب مع شرحه: ۹٤. ۹۵، بيروت).
غنیۃ الناسک میں ہے:
ومن دخل مكة أو الحرم بلا إحرام فعليه أحد النسكين، فلو أحرم به بعد تحول السنة أو قبله من مكة أو خارجها داخل المواقيت أجزأه وعليه دم المجاوزة، فإن عاد إلى ميقات ولبي عنده سقط عنه دم المجاوزة أيضاً. (غنية الناسك في بغية المناسك: ص۳۱، إدارة القرآن. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۲۲۱).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
حدود میقات کے باہر سے جو شخص بھی براہِ راست مکہ مکرمہ کا سفر کرے، اس کے لیے میقات سے احرام باندھ کر آگے بڑھنا ضروری ہے، اب چونکہ ہوائی جہاز ہی کا سفر ہوتا ہے اور غالباً جہاز قرنِ منازل اور یلملم دونوں مقامات سے گزرتا ہے، اور دونوں ہی میقات ہیں، جہاز کس وقت میقات کے مقابل آیا اس کا صحیح اندازہ دشوار ہے، لہذا حجاج کو چاہیے کہ آغازِ سفر میں ہی احرام باندھ لیں، البتہ جو حجاج پہلے مدینہ جانا چاہیں، وہ احرام نہ باندھیں، کیوں کہ میقات سے ان کا سفر حرم کی طرف نہ ہوگا، اور احرام ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جو میقات سے حرم کی طرف جار ہے ہوں ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۳۹، نعیمیہ) ۔
مزید ملاحظہ ہو: عمدۃ الفقہ: حصۂ چہارم: ۹۹، مجددیہ ۔ و ایضاح المسائل: ص ۱۲۳ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1182
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1182