میقات سے گزرتے وقت مدینہ منورہ کا قصد ہو تو احرام کا حکم:
Question
ایک شخص حج کے لیے جانا چاہتا ہے، ایجنٹ نے بتایا کہ پہلے مدینہ منورہ جانا ہے لہذا اس شخص نے احرام نہیں باندھا اور مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو گیا، جدہ پہنچنے کے بعد ایجنٹ نے بتلایا کہ پہلے مکہ مکرمہ جانا ہے تواب وہ شخص کیا کرے گا؟ احرام کہاں سے باندھے؟ نیز دم واجب ہوگا یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں میقات سے گزرتے وقت حرم شریف کا قصد نہ تھا بلکہ مدینہ منورہ کا قصد تھا لہذا احرام باندھنا ضروری نہ تھا، اس لیے دم واجب نہیں ہے، لیکن اب جدہ میں قصد بدل گیا اور مکہ مکرمہ جانا ہے، تو جدہ ہی میں احرام باندھ لے پس کوئی جزا واجب نہیں ہو گی ۔
شرح لباب المناسک میں ہے:
ومن جاوز وقته أي الذي وصل إليه حال كونه يقصد مكاناً في الحل كبستان بني عامر أو جدة مثلاً بحيث لم يمر علي الحرم وليس له عند المجاوزة قصد أن يدخل الحرم بعد دخول ذلك المكان ثم بدا له أي ظهور أي حارث أن يدخل مكة أي أو الحرم ولم يرد نسكاً حينئذٍ فله أن يدخلها أي مكة، وكذا الحرم بغير إحرام. (شرح اللباب: ص۹٦، بيروت. وغنية الناسك: ۳۲).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
جو حجاج پہلے مدینہ جانا چاہیں، وہ احرام نہ باندھیں، کیوں کہ میقات سے ان کا سفر حرم کی طرف نہ ہوگا، اور احرام ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جو میقات سے حرم کی طرف جار ہے ہوں ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۳۹، نعیمیہ) ۔
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر اس کا ارادہ حج یا عمرہ کا نہ ہو بلکہ اس کا ارادہ بستانِ بنی عامر وغیرہ میں کسی ضرورت کے لیے جانے کا ہو تو اس پر کچھ واجب نہیں پھر اس کے بعد اس کو کوئی ایسا امر پیش آیا جس کی وجہ سے اس کو مکہ مکرمہ یا حرم میں کسی اور جگہ جانا پڑا اور وہ اس وقت حج یا عمرہ کا ارادہ کرے تو اس کا میقات تمام زمینِ حل ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: حصۂ چہارم: ۱۰٤، مجددیہ) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: یمنی مدینہ منورہ جانے کے قصد سے نکلا بوقتِ گزرنے میقات یلملم کے احرام نہیں باندھا جب جدہ شریف پہنچا پھر مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کیا اور جدہ سے احرام باندھ لیا تو اب دم واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب: اس کا احرام جدہ سے صحیح ہوا اور اس پر کوئی جنایت لازم نہیں آئی ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۱٦۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1183
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1183