ایک لاکھ کا ثواب پورے حرم شریف میں ملنے کا حکم:
Question
ایک لاکھ کا ثواب صرف مسجد حرام کے ساتھ خاص ہے یا پورے حرم میں ہے؟
Answer
بہتر یہ ہے کہ مسجد حرام کا اہتمام کیا جائے، لیکن اگر مشکل ہو تو مکہ مکرمہ میں کسی بھی جگہ تضعیف کی امید رکھنا چاہیے، اگر چہ روایاتِ صحیحہ میں مسجد حرام کا لفظ ہے، اور مسجد حرام بیت اللہ کے ارد گرد احاطہ کو کہتے ہیں، پورے مکہ مکرمہ پر مسجد حرام کا اطلاق نہیں کیا جاتا، نیز اس میں مسجد حرام کی خصوصی شان کا اظہار ہے، خصوصاً عصر حاضر میں ہوٹلوں میں نماز پڑھنے والوں کے لیے تنبیہ بھی ہے، ہاں مطلق حسنات میں تضعیفِ اجر پورے حرم شریف میں ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں، اور ابن ماجہ وغیرہ کی روایات سے ثابت ہے اگر چہ روایات ضعیف ہیں ۔
ملاحظہ ہو حضرت شیخ اوجز المسالک میں فرماتے ہیں:
السادس: ـ أن التضعيف يختص بنفس المسجد الحرام أو يعم جميع مكة من المنازل والشعاب وغير ذلك أم يعم جميع الحرم الذي يحرم صيده قال العيني فيه خلاف والصحيح عند الشافعية أنهم يعم جميع مكة وصحح النووي أنه جميع الحرم.
قال القاري رحمه الله اختلفوا في محل هذه المضاعفة على أربعة أقوال: الأول: الحرم، والثاني: مسجد الجماعة، وهو ظاهر كلام أصحابنا، واختاره بعض الشافعية، والثالث: أنه مكة، والرابع: أنه الكعبة، وهو أبعدها. (أوجز المسالك ٤/۲۰۲ جديد، باب ما جاء في مسجد النبوي، دار القلم دمشق. وكذا في فتح الملهم بشرح صحيح مسلم: ۳/٤۱٦).
علامہ شامی فرماتے ہیں:
واختلف في المراد بالمسجد الحرام قيل مسجد الجماعة، وأيده المحب الطبري، وقيل الحرم كله، وقيل الكعبة خاصة، وجاءت أحاديث تدل على تفضيل ثواب الصوم وغيره من القربات بمكة، إلا أنها في الثبوت ليست كأحاديث الصلاة فيها، وذكر البيري في شرح الأشباه في أحكام المسجد: أن المشهور عند أصحابنا أن التضعيف يعم جميع مكة بل جميع حرم مكة الذي يحرم صيده كما صححه النووي رحمه الله. (الشامي: ۲/۵۲۵، سعيد).
غنیۃ الناسک میں ہے:
واختلف في المراد بالمسجد الحرام الذي فيه المضاعفة فقيل: مسجد الجماعة حول الكعبة، وقيل: الحرم كله والأول مذهب الإمام مالك رضي الله تعالى عنه وجزم به النووي في المجموع والتهذيب، وقال الأسنوي: أنه الظاهر واختاره ابن حجر في التحفة وصححه وأيده المحب الطبري بأن الإشارة في المستثنى منه إلى مسجد الجماعة فليكن المستثنى كذلك، قال في الكبير هو ظاهر مذهب أصحابنا. كما يؤخذ من تخصيص المضاعفة بالفرائض، ومن قول ابن الهمام في صلاة الظهر يوم النحر أنها في المسجد الحرام أولي لثبوت مضاعفة الفرائض فيه وبعكسه قال ابن حجر: هي بمني أفضل منها بالمسجد الحرام وإن فاتته مضاعفته على الأصح، وكذا يؤخذ من فرع ذكره في شرح المنية قال: وإن فاتته الجماعة في مسجد حية فإن أتي مسجد آخر يدركها فيه فهو أفضل إلا في المسجد الحرام، ومسجد النبي ﷺ، كذا في مختصر البحر. فما في رد المحتار: وذكر البيري في شرح الأشباه أن المشهور عند أصحابنا أن التضعيف يعم جميع مكة بل جميع حرمها الذي يحرم صيده، كما صححه النووي، ليس كما ينبغي نعم مضاعفة الحسنة مطلقاً بمائة ألف تعم الحرم كله لحديث وإن لم يكن في الثبوت كأحاديث مضاعفة الصلاة في المسجد الحرام. (غنية الناسك في بغية المناسك، ص ۷٦، مطلب في مضاعفة الصلاة في المسجد الحرام).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ مسجد حرام میں کئی گنا ثواب ہوتا ہے جو روایت میں وارد ہوا ہے ان میں مسجد حرام سے کیا مراد ہے اور اس بارے میں چار قول ہیں:
(۱) یہ کہ اس سے مراد کعبۂ معظمہ (بیت اللہ شریف) ہے ۔ اس قول کی بنا پر مقام حطیم اس میں داخل ہے ۔
(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ بعض علماء نے کہا ہے اس سے مراد مسجد جماعت ہے خواہ وہ حصہ ہو جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسجد تھا یا زیادہ حصہ ہو جو بعد میں اب تک اضافہ ہوتا رہا ہے اور علماء حنفیہ کے نزدیک یہی ظاہر ہے ۔
(۳) تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد شہر مکہ مکرمہ کی تمام سرزمین ہے اگر چہ وہ مسجد حرام سے باہر ہو اور (٤) چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تمام حدودِ حرم کی تمام سرزمین ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/٦٦۳، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1230
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1230