ایام حج میں منیٰ میں جمعہ قائم کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 3 #355Urdu

Question

زمانہ قدیم کے فقہاء نے منیٰ میں ایام حج میں جمعہ کا جواز لکھا ہے، لیکن قدیم زمانہ میں وہاں قریہ کی شکل کی آبادی تھی، جب کہ اب وہاں مستقل آبادی نہیں ہے، تو اب اس زمانہ میں منیٰ میں جمعہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر ہو سکتا ہے تو واجب ہے یا جائز؟

Answer

(۱) آج کل منیٰ میں قانونی طور پر آبادی نہیں ہے، کئی سالوں سے وہاں کے مکانات کو گرا کر وہاں کی آبادی ختم کر دی گئی ہے، حج صرف خیموں میں ہوتا ہے، جیسا کہ مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب نے اپنے ایک مقالہ میں تحریر فرمایا ہے، لہذا یہ قریہ نہیں ۔
(۲) فقہاء کرام ابو اب الجمعہ میں فرماتے ہیں کہ: شیخین کے یہاں امیر کی موجود گی میں منیٰ میں جمعہ جائز اور عرفات میں بالاتفاق جائز نہیں، پھر اس کی وجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ "منیٰ قریہ ہے، اور حج کے زمانے میں مصر بن جاتا ہے" لہذا منیٰ میں جمعہ جائز ہے اور عرفات خالی صحرا ہے یا جنگل ہے، لیکن یا د رہے کہ آج کل منیٰ قریہ نہیں ہے، لہذا حج کے زمانے میں مصر نہیں بنے گا، کیوں کہ مصر بننے سے پہلے ضروری ہے کہ مستقل قریہ ہو مگر جب منیٰ صحراء ہے تو حج کے زمانے میں مصر نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

وتجوز بمني إن كان الأمير أمير الحجاز أو كان مسافراً عندهما وقال محمد: لا جمعة بمني لأنها من القري، حتى لا يعيد بها. ولهما أنها تتمصر في أيام الموسم، وعدم التعييد للتخفيف، ولا جمعة بعرفات في قولهم جميعاً، لأنها فضاء وبمني أبنية. (الهداية: ۱/۱٦۷، باب صلاة الجمعة).

اور ابن ہمام رحمه الله نے فرمایا ہے کہ کھلے میدان میں جمعہ نہیں ۔

قال ابن الهمام: إذا سافر الخليفة فليس له أن يجمع في القرى كالبراري. (هداية مع الفتح ۲/۳۵، ۵٤، دار الفكر).

بلکہ عرفات کی جو حالت فقہاء نے بیان کی ہے، موجود ہ زمانے کا منیٰ اس سے قریب ہے، کیوں کہ ملا زمین اور عملہ کے رہنے کا اعتبار نہیں، اور ان کے علاوہ مستقل رہائش پذیر لوگ وہاں نہیں ہیں ۔
ہاں قدیم زمانہ میں منیٰ آباد تھا، جیسا کہ کتبِ فقہ سے ظاہر ہے اور اسی وجہ سے فقہاء مصر کی تعریف میں آبادی کا ذکر کرتے وقت منیٰ کی آبادی کا ذکر فرماتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

والمصر في ظاهر الرواية: الموضع الذي يكون فيه مفتٍ وقاضٍ يقيم الحدود ولينفذ الأحكام، وبلغت أبنيتها أبنية منى هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۱/۱٤۵).

(۳) نیز بعض سلف سے منیٰ میں جمعہ نہ پڑھنا منقول ہے ۔
ملاحظہ ہو مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

عن عبد الملك عن عطاء قال: سمعته ـ وسئل: على أهل منى جمعة؟ قال: إنما هم سفر. وعن خالد بن أبي عثمان قال: شهدت عمر بن عبد العزيز لا يجمع بمنى. (مصنف ابن أبي
شيبة: ۸/۳۳۲، المجلس العلمي، ما قالوا بمنى جمعة أم لا؟).

مؤطا امام مالک میں ہے:

قال مالك رحمه الله في إمام الحاج: إذا وافق يوم الجمعة يوم عرفة أو يوم النحر أو بعض أيام
التشريق أنه لا يجمع في شيء من تلك الأيام. (موطأ الإمام مالك رحمه الله: ص ٤۲٦).

ابن منذر نیساپوری کی اوسط میں ہے:

ذكر حديث: جاء رجل من اليهود إلى عمر رضي الله عنه، فقال: آية من كتاب الله تقرؤونها

إني لا علم اليوم الذي أنزلت فيه والمكان الذي نزلت فيه

إلى آخر الحديث، قال أبو بكر: ففي الجمع بين هذا الحديث وحديث جابر رضي الله عنه أن النبي ﷺ صلي الظهر بعرفة بيان ودليل على أن لا جمعة بمنى ولا عرفة، وقال مالك رحمه الله: لا يجمع الإمام وهو مسافر في بر أو بحر. (الأوسط لا بن المنذر: ۵/۳٤۹/۱۷۰۹، من تجب عليه الجمعة).

الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:

ولا جمعة بمنى وعرفة نصاً لأنه لم ينقل فعلها هناك. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۲/۲٦۹، دار الفكر).

کشاف القناع (فقہ حنبلی کی کتاب ہے) میں ہے:

ولا جمعة بمنى وعرفة نصاً، لأنه لم ينقل فعلها هناك، وللسفر. (كشاف القناع: ٤/۱۲٤، باب صلاة الجمعة).

خلاصہ یہ ہے کہ منیٰ میں جمعہ نہیں پڑھنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.