ایجاب و قبول کی مجلس بدلنے سے نکاح کا حکم:
Question
ایک شخص نے ایک لڑکی سے نکاح اس طریقہ پر کیا کہ دو مسلمان گواہوں نے شوہر کے ایجاب کو الگ مجلس میں سنا پھر یہ گواہ لڑکی کے پاس آئے اور اس کا قبول دوسری مجلس میں سنا، تو کیا یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ایجاب و قبول کی مجلس بدل جانے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوا ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
وأما الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد. (بدائع الصنائع: ۲/۲۳۲، شرائط ركن النكاح، سعيد).
در مختار میں ہے:
ومن شرائط الإيجاب والقبول اتحاد المجلس لو حاضرين. وفي الشامي: قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۱٤، سعيد).
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
ایجاب و قبول سے متعلق شرائط: ۔ (الف) مجلس کا متحد ہونا، یہ ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک مجلس میں ہو، اگر ایجاب کے بعد اور قبول سے پہلے مجلس بدل جائے یا دوسرے فریق کی طرف سے کوئی ایسا عمل صادر ہو جس سے اس کا اعراض اور بے توجہی ظاہر ہو تو ایجاب بے کار ہو جائے گا، اور قبولیت معتبر نہ ہو گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ص ٤۰، دفعہ ۲۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1267
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1267