رخصتی سے پہلے صحبت نہ کرنے کی شرط لگانے کا حکم:
Question
اگر کسی لڑ کے نے بوقت نکاح یہ شرط لگائی کہ رخصتی سے پہلے صحبت نہیں کروں گا، اور اب تک رخصتی نہیں ہوئی، لیکن وہ لڑکا صحبت کرنا چاہتا ہے تو جائز ہے یا نہیں؟ اور جو شرط لگائی وہ صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اس شرط کا پورا کرنا ضروری ہے، نیز شرط نہ لگائی ہو تب بھی عرف میں قبل از رخصتی لوگ ہم بستری نہیں کرتے، اس لیے عرف کا لحاظ رکھتے ہوے بھی ہم بستری سے اجتناب کرنا چاہیے، علامہ شامی فرماتے ہیں:
"والعرف في الشرع له اعتبار
٭
لذا عليه الحكم قد يدار".
(شرح عقود رسم المفتي: ۳۸، دار الاشاعت).
عرف کی دیگر چند مثالیں بھی ملاحظہ فرمائیں: مثلاً اگر روٹی کو بطور قرض لے کر بعد میں واپس کر دے اور تعداد کا لحاظ رکھے تو شرعاً یہ درست نہیں ہونا چاہیے ہونا چاہیے، کیوں کہ روٹی میں کمی بیشی ہوتی ہے، لیکن عرف اور تعامل کی وجہ سے جائز ہے، اسی طرح عرف میں ننگے سر پھرنا عیب ہے تو طلبہ و علماء کو سر چھپانا چاہیے، اسی طرح بغیر قمیص کے گھومنا عرفاً عیب ہے، تو اس طرح نہیں گھومنا چاہیے، بنا بریں شرط و عرف دونوں کی وجہ سے رخصتی سے قبل ہم بستری سے بچنا چاہیے ۔
قال الله تعالى: ﴿يا أيها الذين اٰمنوا أوفوا بالعقود﴾ (سورة المائدة: ۱).
وفي الحديث: "أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج. (رواه البخاري: ۱/۳۷٦، باب الشروط في المهر).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
تیسری قسم: کی شرطیں وہ ہیں جن سے عورت کو نفع پہنچتا ہو اور شریعت نے نہ ان کو واجب قرار دیا ہو اور نہ ان سے منع کیا ہو؛ گویا ان شرطوں کو مان کر مرد اپنے بعض ایسے حقوق سے دستبردار ہو جاتا ہے جن سے دستبردار ہونے کا اس کو اختیار ہے، مثلاً عورت کا یہ شرط لگانا کہ وہ اس کی موجود گی میں دوسرا نکاح نہیں کرے گا، یا یہ کہ اس کی اس کو اس کے شہر سے باہر نہیں لے جائے گا وغیرہ ایسی شرطوں کے ساتھ نکاح منعقد ہو جائے گا، اس پر اتفاق ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ شرطیں معتبر ہوں گی اور اس کی تکمیل واجب ہو گی یا نہیں؟ سلف صالحین اور ائمہ مجتہدین کا اس میں اختلاف ہے ۔
مثبتین اور ان کے دلائل:
جن کے نزدیک یہ شروط معتبر ہیں ان میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ، قاضی شریح رحمه الله، عمر بن عبد العزیز رحمه الله اسحاق بن راہویہ رحمه الله، اوزاعی رحمه الله، وغیرہ ہیں ۔
دلائل ملاحظہ ہو: (۱) اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿يا أيها الذين اٰمنوا أوفوا بالعقود﴾ (سورة المائدة: ۱).
ابوبکر جصاص رازی رحمه الله فرماتے ہیں:
وكذلك كل شرط شرطه إنسان على نفسه في شيء يعمله في المستقبل فهو عقد.
وأيضاً قال: وهو عموم في إيجاب الوفاء بجميع ما يشترط الإنسان على نفسه ما لم تقم دلالة تخصصه. (أحكام القرآن: ۳/۳۸٤، ۲۸۵).
(۲) "أحق ما أوفيتم من الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج. (رواه الجماعة).
(۳) یہ ایسی شرطیں ہیں جو مقاصد نکاح میں تو مانع نہیں ہیں اور اس سے ایک جائز مقصد و منفعت متعلق ہے، تو لازم ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔ (ملخص از جدید فقہی مسائل: ۳۵ ۔ ۳۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1282
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1282