زمین کے کرایہ میں بطورِ قرض معتد بہ رقم کی شرط لگانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #393Urdu

Question

ایک علاقہ میں یہ عرف ہے کہ لوگ کاشتکار کو زمین اجارہ پر دیتے ہیں لیکن ساتھ میں یہ شرط لگاتے ہیں کہ کاشتکار کو بطورِ قرض ۵ لاکھ مثال کے طور پر مالک کو دینے ہوں گے، پھر جب زمین کی مدتِ اجارہ ختم ہو جاتی ہے تو یہ رقم واپس کر دی جاتی ہے، کیا ایسا معاملہ شریعت کی نگاہ میں جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ شرط بظاہر مقتضی عقد کے خلاف ہے اور معروف و مشہور بھی نہیں ہے، پھر اس کے ذریعہ سے سود کا دروازہ کھلتا ہے، لہٰذا ایسی شرط سے اجتناب کرنا چاہیے، ہاں اگر بطورِ ڈپازٹ کچھ رقم جمع کرالی جائے تاکہ زمین یا مکان کو اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس کی تلافی کی جا سکے تو یہ درست ہے ۔
نیز اجارہ میں اس قرض مشروط نے زمین کے مالک کو فائدہ پہنچایا، جو کہ جائز نہیں، کیوں کہ ۵ لاکھ کی ویلیو واپسی کے وقت ۲ لاکھ کے برابر بھی نہ ہو گی، اور بیع اور اجارہ میں ایسی شرط لگانا صحیح نہیں ۔
شرح العنایہ علی الہدایہ میں مرقوم ہے:

وفيما إذا لم يكن متعارفاً وفيه منفعة لا حد المتعاقدين كبيع عبد بشرط استخدام البائع مدة يكون العقد فاسداً لوجهين لأن فيه زيادة عارية عن العوض، لأنهما لما قصدا المقابلة بين المبيع والثمن خلا الشرط عن العوض وهو الربا، لا يقال: لا تطلق الزيادة إلا على المجانس للمزيد عليه والمشروط منفعة فكيف يكون ربا لأنه مال جاز أخذ العوض عليه ولم يعوض عنه بشيء فكان ربا، ولأنه يقع بسببه المنازعة في مقصوده فيعري العقد عن مقصوده من قطع النزاع. (شرح العناية على الهداية بهامش فتح القدير: ٦/٤٤۲، دار الفكر).

تکملہ فتح الملہم میں مذکور ہے:

وقد كثرت في عهدنا أنواع الشروط في البيوع والإجارات وغيرها، فكل ما جري به التعامل كان جائز اً، مثل ما تعورف في العالم كله أن مشتري الثلاجات، والدافئات والماكينات الأخرى يشترط على البائع القيام بتصليحها كلما عرضها فساد في حدود مدة معلومة، كالسنة أو السنتين مثلاً، فإن هذا الشرط جائز لشيوع التعامل بها. (تكملة فتح الملهم: ۱/٦۳۵).

مزید ملاحظہ ہو: (
الكفاية على الهداية: ٦/۷۷، مكتبة رشيديه، والمبسوط للإمام السرخسي: ۱۳/۱٤، وشرح المجلة للأتاسي: ۲/۵۹، والمدخل الفقهي العام: ۲/، وفتاوى دار العلوم زكريا: ۵/۵۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.