خیراتی ادارے اور انجمن کے اموال پر وجوبِ زکوٰۃ کا حکم:
Question
لوگوں نے انجمن بنائی ہے جس میں رقم جمع رہتی ہے اور اس رقم سے اموات کے کفن دفن اور دوسرے کارِ خیر انجام پاتے ہیں، یہ رقم ہزاروں یا لاکھوں تک پہنچتی ہے، سال گزرنے کے بعد اس رقم پر زکوٰۃ لازم ہو گی یا نہیں؟ نیز خیراتی اداروں پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ انجمن اور خیراتی اداروں کی رقوم چندہ دہندگان کی ملک سے نکل چکی ہیں اور انجمن وغیرہ خیراتی ادارے شخصی قانون ہے لیکن اس کا کوئی معین شخص مالک نہیں ہے، اسی وجہ سے انجمن کے اراکین میں سے کسی کے انتقال کے بعد اس رقم کا حصہ میت کے ورثاء کو واپس نہیں کیا جاتا یعنی ترکہ نہیں بنتا بنا بریں اس قسم کی رقوم پر زکوٰۃ واجب اور لازم نہیں ہو گی ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:
وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا لأن في الزكاة تمليكاً والتمليك في غير الملك لا يتصور. (بدائع الصنائع: ۲/۹، سعيد). (وكذا في الدر المختار: ۲/۲۷۷، سعيد).
وقال في المبسوط: قال الشيخ الإمام الأجل
الزكاة لا تجب إلا باعتبار الملك والمالك ولهذا لا تجب في سوائم الوقف ولا في سوائم المكاتب. (المبسوط للإمام السرخسي: ۳/۹٤، ط: بيروت).
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: الشرط الأول: كون المال مملوكاً لمعين: فلا زكاة فيما ليس له مالك معين، ومن هنا ذهب الحنفية إلى أن الزكاة لا تجب في سوائم الوقف، والخيل المسبلة، لأنها غير مملوكة. قالوا: لأن في الزكاة تمليكاً، والتمليك في غير الملك لا يتصور. (الموسوعة: ۲۳/۲۳٦، ط: الكويت).
کفایت المفتی میں ہے:
محلہ کا وہ پیسہ جو جماعت کا مشترک روپیہ ہو اور لوگوں کے کام آنے کے لیے جمع ہو یا مسجد کا روپیہ ہو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲٦۵، دار الاشاعت) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
جس مال کا کوئی متعین مالک نہ ہو بلکہ مسجد یا مدرسہ یا اور کوئی ادارے اس کے مالک ہوں ان میں زکوٰۃ واجب نہ ہو گی ۔ (جدید فقہی مسائل: ۲/۵۰) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مباحث: ٦/۲۰، ۲۱) ۔
احناف کے یہاں شخص قانونی پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو درسِ ترمذی میں ہے:
مشترک مال پر شخص قانونی کی حیثیت سے زکوٰۃ نہیں ہو گی ۔ (درسِ ترمذی: ۲/٤۲۵) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: ۱/٤۳۲) ۔
قانونِ شخصی کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ چہارم، ص ٦٦۰ ۔ ٦٦٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1352
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1352