بجبر و آ کراہ تحریری طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #77Urdu

Question

ایک عورت نے طلاق نامہ لکھوا کر ایک پولیس کو اپنے ہمراہ کیا اور شوہر کے پاس گئی، پولیس والے نے شوہر کو دھمکی دی کہ اس پر چہ پر دستخط کر دو ورنہ گولی ماردوں گا، اس نے پوچھا اس میں کیا لکھا ہے، پولیس والے نے کہا ایک طلاق، شوہر نے بجبر و آ کراہ بادل ناخواستہ اس طلاق نامہ پر دستخط کر دی، بعد میں بتایا کہ اس میں تین طلاق لکھی تھی، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کتنی طلاق واقع ہوئی ایک یا تین؟

Answer

طلاق بالکتابت میں شرعاً شوہر کی رضامندی سے طلاق واقع ہوتی ہے، یعنی شوہر نے از خود اپنی رضامندی سے طلاق نامہ لکھایا اس نے برضا و رغبت طلاق نامہ پر دستخط کر دی، لیکن بجبر و آ کراہ طلاق نامہ لکھوانے یا طلاق نامہ پر جبراً دستخط کرا لینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا بصورتِ مسئولہ اگر شوہر نے زبان سے کچھ نہیں کہا تو طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے:

وفي البحر:

فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق. (فتاوى الشامي: ۳/۲۳٦، مطلب في الإكراه على التوكيل

، سعيد).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤۷۳، الطلاق بالكتابة).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

وفي الظهيرية: رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فكتب فلانة بنت فلانة امرأته طالق، وفي الحاوي: ولم يعبر بلسانه لا تطلق. (الفتاوى التاتارخانية: ۳/۳۸۰، إيقاع الطلاق بالكتابة).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
بجبر طلاق نامہ پر دستخط کرا لینے سے جب کہ زبان سے طلاق نہیں دی، اور نہ خولکھی، طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹ /۱۵٤، مدلل مکمل) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے: پولیس کی دھمکی بھی "آ کراہ" میں داخل ہے ۔ (کتاب الفتاویٰ: ۵/۹۰) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۳۵، دفعہ ٦ ۔ و امداد المفتین: جلد دوم: ٦۳۵، دار الاشاعت ۔ و کتاب الفتاویٰ: ۵/۱۰۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.