تعلیق طلاق کی ایک صورت:

1 min readFatwa Vol 4 #99Urdu

Question

ایک شخص کی بیوی ناراض ہو کر چلی گئی، شوہر نے کہا اگر تم یکم جنوری ۲۰۱۰ تک نہیں آئی، تو نکاح ختم اور فسخ ہے، مذکورہ تاریخ تک بیوی نہیں آئی، اب بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور طلاق واقع ہونے کی صورت میں کون سی طلاق ہوئی؟

Answer

بصورتِ مسئولہ شخص مذکور نے طلاق کی نیت سے کہا تھا تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی، چونکہ عرف میں نکاح ختم ہونا تعلقات ختم ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس لیے بظاہر نیت کی ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی قاضيخان میں ہے:

ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح أوقال فسخت نكاحك يقع الطلاق إذا نوى. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤٦۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.