حالت غصہ میں عقل زائل ہونے پر طلاق کا حکم:
Question
اگر ایک آدمی غصہ میں اپنے اختیار سے باہر ہو جاتا ہے، اپنا سر دیوار سے ٹکراتا ہے، گھر کے سامان کو بھی توڑ دیتا ہے، اور کچھ یا د بھی نہیں رہتا کہ میں نے کیا کیا تھا، اس کی آواز بھی بدل جاتی ہے، اور یہ شخص مسحور بھی ہے، ایسی کیفیت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر شخصِ مذکور کی حالت واقعی ایسی ہے جو سوال میں درج ہے، تو ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوے طلاق واقع نہ ہو گی ۔ البتہ آئندہ علاج کی فکر کرنا چاہیے، تاکہ بار بار ان حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ملاحظہ ہو
"الفقه على المذاهب الأربعة"
میں ہے:
فاعلم أن بعض العلماء قد قسم الغضب إلى ثلاثة أقسام: الأول: ــ أن يكون الغضب في أول أمره، فلا يغير عقل الغضبان بحيث يقصد ما يقوله ويعلمه، ولا ريب في أن الغضبان بهذا المعنى يقع طلاقه وتنفذ عباراته باتفاق.
الثاني: ــ أن يكون الغضب في نهايته بحيث يغير عقل صاحبه ويجعله كالمجنون الذي لا يقصد ما يقول ولا يعلمه، ولا ريب في أن الغضبان بهذا المعنى لا يقع طلاقه لأنه هو والمجنون سواء.
الثالث: ـــ أن يكون الغضب وسطاً بين الحالتين بأن يشتد ويخرج عن عادته، ولكنه لا يكون كالمجنون الذي لا يقصد ما يقول ولا يعلمه. والجمهور على أن القسم الثالث يقع به الطلاق. والتحقيق عند الحنفية أن الغضبان الذي يخرجه غضبه عن طبيعته وعادته بحيث يغلب الهذيان على أقواله وأفعاله فإن طلاقه لا يقع وإن كان يعلم ما يقول ويقصده، لأنه يكون في حالة يتغير فيها إدراكه، فلا يكون قصده مبنياً على إدراك صحيح، فيكون كالمجنون، لأن المجنون لا يلزم أن يكون دائما فيحالة لا يعلم معها ما يقول، فقد يتكلم في كثير من الأحيان بكلام معقول، ثم لم يلبث أن يهذي. (الفقه على المذاهب الأربعة: ٤/۲۲۷، شروط الطلاق، القاهرة).
و کذا فی رد المحتار: ۳/۲٤٤، مطلب في طلاق المدہوش، سعید) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
انتہائی درجہ کا غضب جس میں عقل مغلوب ہو جائے اور انسان یہ نہ سمجھے کہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، یہ بھی وہ کیفیت ہے جس میں طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۳۳ ۔ و امداد المفتین جلد دوم: ۵۹۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1562
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1562