مسحور اور آسیب زدہ کی طلاق کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #106Urdu

Question

اگر کسی پر جادو کیا گیا ہو اور اسی حالت میں اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیں تو واقع ہو گی یا نہیں؟ اس کی حالت بظاہر مجنون کی سی نہیں ہے ۔ نیز اگر مجنون کی طرح ہو تو کوئی فرق ہوگا یا نہیں؟ نیز اگر کو ئی کہے اس پر جنات کا اثر ہے اور جنات نے طلاق دی، اس نے نہیں دی تو کیا حکم ہے؟

Answer

سحر اور جنات کا دعوی بظاہر مقبول نہیں، طلاق سے فرار اختیار کرنے کے لئے ہے، لہذا جس شخص نے بیوی کو طلاق دی اور اس کا جنون اور پاگل پن معلوم و مشہور نہ ہو تو اس کی طلاق واقع ہو جائے گی ۔ ہاں اگر جنون اور پاگل پن معلوم و مشہور ہو تو پھر طلاق واقع نہ ہو گی ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

لا يقع طلاق

والمجنون

والمعتوه من العته وهو اختلال في العقل. وفي الشامية: قوله "والمجنون" قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب بأن لا تظهر آثارها وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سبباً. وفي البحر عن الخانية: رجل عرف أنه كان مجنوناً فقالت له امرأته طلقتني البارحة فقال: أصابني الجنون ولا يعرف ذلك إلا بقوله كان القول قوله. (قوله وهو اختلال في العقل) هذا ذكره في البحر تعريفاً للجنون وقال: ويدخل فيه المعتوه، وأحسن الأقوال في الفرق بينهما أن المعتوه هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير، لكن لا يضرب ولا يشتم بخلاف المجنون، وصرح الأصوليون بأن حكمه كالصبي. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲٤۳، كتاب الطلاق، سعيد).

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما شرائط الركن فأنواع، بعضها يرجع إلى الزوج

أما الذي يرجع إلى الزوج فمنها: ــ أن يكون عاقلاً حقيقة أو تقديراً، فلا يقع طلاق المجنون والصبي الذي لا يعقل، لأن العقل شرط أهلية التصرف، لأن به يعرف كون التصرف مصلحة، وهذه التصرفات ما شرعت إلا لمصالح العباد. (بدائع الصنائع: ۳/۹۹، شرائط ركن الطلاق، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر جنون و سحر وغیرہ کی وجہ سے ہوش و حواس قائم نہ رہے اور یہ معلوم نہ ہو کہ زبان سے کیا الفاظ کہہ رہا ہے اور ان کا کیا نتیجہ ہوگا تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی، اگر یہ بات نہ ہو بلکہ الفاظ کے مطلب کو سمجھتا ہو پھر اس طرح کہے تو طلاق ہو جاتی ہے ۔
طلاق دیتے وقت اس کے دوسرے احوال و معاملات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حواس صحیح تھے یا نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/٦۵۱، مبوب و مرتب) ۔
(و کذا فی الفتاوی التاتارخانیۃ: ۳/۲۵۵، في بیان من یقع طلاقہ ومن لا یقع ۔ و امداد الاحکام: ۲/ ۵٦۵ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۸/۲٦۲ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱۲/۳۰۱ ۔ و مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۳۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.